پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 32 بچوں اور 2 خواتین ٹیچرز کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کی ایف آئی آر میں نوٹ کیا گیا ہے کہ بچوں نے مالکان کے ساتھ عمارت گرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا مگر ’ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی‘۔
یہ اندوہناک واقعہ گزشتہ روز پشاور کے تھانہ یکہ توت کی حدود میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے جبکہ لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق لگ بھگ 54 بچے زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر اسکول کی عمارت کے مالک، شریک مالکان اور ٹھیکیدار کے خلاف درج کی گئی ہے جس کے متن کے مطابق الخیر ایجو کیشن سسٹم نامی یہ اسکول دیر کالونی کے محلہ سعید آباد میں واقع تھا۔ اسکول کی عمارت کا پلاٹ 16 مرلے تھا اور دیر کالونی کے رہائشی وحید اور جاوید اس کے مالک تھے۔
View this post on Instagram
یہ پلاٹ 2024 میں مفتی خان محمد نے دیگر شیئر ہولڈرز، ریاض، معیز الرحمان، اور مولانا امیر حبیب کے ساتھ مل کر مالک سے لیز پر حاصل کیا اور اس پر ٹھیکدار شاہ زمان سے اسکول کی عمارت تعمیر کرائی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پلاٹ پر بلڈنگ تیار کرنے میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا اور اسی بلڈنگ میں یہ اسکول قائم کر دیا گیا جس میں علاقے کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے پڑھتے تھے۔
مقدمہ کے مطابق اسکول میں ”زیر تعلیم بچوں نے کئی مرتبہ اسکول کے مالک و شیئر ہولڈرز کو شکایت کی تھی کہ اسکول کی دیواریں اور چھتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں اور ان کے گرنے کا قوی اندیشہ ہے مگر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تھی۔“
ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی دوسری منزل میں نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور کلاس 2 کے کمروں کی چھتیں گریں جس نتیجہ میں “30 بچوں کے جان بحق اور ایک فی میل ٹیچر کے بھی جان بحق ہونے اور 52 افراد کی زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہو چکی ہے جبکہ دیگر افراد کی نسبت تصدیق کی جارہی ہے۔”
واضح رہے کہ 30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں بھی ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی طرح 2 جولائی کو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں زیر تعمیر اسکول کی عمارت کا ایک حصہ گرنے سے 8 سالہ بچہ جاں بحق ہوا۔
اس کے علاوہ بھی پاکستان میں اس سال اسکولوں کی چھتیں گرنے کے 3 دیگر واقعات پیش آچکے ہیں۔ 21 فروری کو سیالکوٹ میں زیر تعمیر سرکاری گرلز ہائی اسکول کا شیڈ گرنے سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ جاں بحق ہوئی، جبکہ 7 مئی کو ڈیرہ غازی خان میں نجی اسکول کے کلاس روم کی چھت گرنے سے 4 طلبہ جاں بحق ہوئے۔
پشاور میں 32 بچوں کی دلخراش موت کا سبب بننے والے واقعے کی انکوائری کے لیے خیبرپختونخوا کے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیش ڈپارٹمنٹ نے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو نہ صرف اس حادثے کی وجوہات کا تعین کرے گی بلکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچنے کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔
اس کے علاوہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 10،10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 2،2 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔
مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے صوبائی محکمہ تعلیم نے ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں جو صوبے بھر میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرکے ان کی تعمیراتی حالت اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیں گی۔
حکومتی اقدام کے تحت اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، بنیادوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کی جانچ کی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے، کمیٹیاں خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کے ساتھ مرمت اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے بھی تجاویز پیش کریں گی۔
