جوڈیشل کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے، فیصلے کی منظوری 14 کے مقابلے میں ایک ووٹ کی اکثریت سے دی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچزکی مدت میں توسیع اوردیگرمعاملات کا جائزہ لیا گیا۔
واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچزکی مدت 25 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والی تھی، سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچزکی تشکیل کا ابتدائی فیصلہ 25 نومبر2024 کو کیا گیا تھا، جب نوججزکودوماہ کیلئے نامزد کیا گیا بعد ازاں مدت میں توسیع ہوتی رہی۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ ججزکو آئینی بینچز کیلئے دوبارہ نامزد کردیا گیا ہے، اس فیصلے کے نتیجے میں آئینی بینچز آئندہ ایک سال تک اپنی موجودہ مدت میں توسیع کے تحت کام جاری رکھ سکیں گے۔
اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے رکن احسن بھون کی اسناد اور پیشہ ورانہ قابلیت سے متعلق کیپٹن (ر) صفدر کی شکایت بھی پیش کی گئی۔
خیال رہے کہ کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنے ایک بیان میں احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری جعلی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ احسن بھون نے انہیں 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجوا دیا تھا، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر ڈگری جعلی ہونے کے الزام کی حمایت میں مستند ریکارڈ موجود نہیں تو کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اپنا بیان واپس لیں اوراحسن بھون سے معذرت کریں۔
اعلامیے کے مطابق احسن بھون کی ڈگری 2021 اور2026 میں تصدیق کیلئے بھیجی گئی تھی، پنجاب یونیورسٹی نے دونوں مواقع پران کی ڈگری اصلی قراردی۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اس معاملے کا ذکربھی کیا گیا جبکہ کمیشن کے اعلامیے میں ڈگری کی تصدیق سے متعلق تفصیلات شامل کی گئیں۔
اجلاس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کی، کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے معاملے پر ووٹنگ کے بعد فیصلہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق آئینی بینچزکی مدت میں ایک سال کی توسیع کی منظوری واضح اکثریت سے دی گئی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ ججزکوان بینچز کیلئے دوبارہ نامزد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔



