کراچی: پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اور ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتاری کے بعد کراچی کی عدالت نے 4 روزہ ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔
ایجنسی کی جانب سے اقرار الحسن کو کراچی کی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا اور تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئ جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
این سی سی آئ کراچی نے اقرار الحسن کو کراچی کی مقامی عدالت میں پیش کر کے چار روزہ ریمانڈ حاصل کر کیا ہے
پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔— Waseem Badami (@WaseemBadami) October 13, 2026
اقرار الحسن کو ایک روز قبل لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
ایجنسی حکام کے مطابق اقرار الحسن کے خلاف این سی سی آئی اے میں پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10، 20، 24، اور 26۔اے کے تحت مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے ۔
مقدمہ میں اقرار الحسن پر ایکس، فیس بک، اور انسٹاگرام پر “عوام کو بڑھکانے کے ارادے سے ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت” پوسٹیں کرنے کا الزام لگایا گیا۔
عدالتی کارروائی کے بعد این سی سی آئی اے کی ٹیم انہیں واپس اپنے ساتھ لے گئی۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ ان کے خاوند کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے تاہم گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں اور این سی سی آئی اے سے رابطے کے باوجود انہیں ان کے مقام اور حراست کے حالات کے بارے میں معلومات نہیں مل سکیں۔
Farah Iqrar narrates the story how her husband Iqrarul Hassan was arrested.👇 https://t.co/T1TaeeIKkI
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) October 12, 2026
فرح اقرار کے مطابق رات کے وقت کچھ افراد ان کے گھر آئے اور اقرار الحسن کو باہر آنے کے لیے کہا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ افراد نے دھمکی دی کہ اقرار الحسن کو باہر نہ لایا گیا تو وہ گھر میں توڑ پھوڑ کریں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان افراد نے دیوار پھلانگی، انہیں دھکا دیا اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق 2 افراد نے اقرار الحسن کو پکڑا جبکہ دیگر افراد موبائل فون اور لیپ ٹاپ لے گئے۔
فرح اقرار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ان افراد نے سی سی ٹی وی کیمرے اور ان کا فون بھی لے لیا۔
اے آر وائی نیوز کے اینکر وسیم بادامی نے بھی اقرار الحسن کی مبینہ گرفتاری کے بعد ان کے بارے میں معلومات دستیاب نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی تھی۔
