وفاقی آئینی عدالت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 21 اگست 2024ء کے فیصلے اور 10 ستمبر 2024ء کے ریویو فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ سمیت دیگر ہوٹلز اور عمارتوں کی مسماری کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا، جبکہ ریسٹورنٹ کی جگہ کی ملکیت، لیز اور کرائے سے متعلق تنازعات کا فیصلہ سول کورٹ سے کرانے کا حکم دیا ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق سول کورٹ فریقین کے ثبوت اور شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے متعلقہ مقدمات کو یکجا کرنے اور فریقین کو سن کر قانون کے مطابق جلد فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کی جانب سے لیز کو کالعدم قرار دینے کا حکم بھی ختم کردیا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تعمیراتی منصوبوں اور انتظامی امور سی ڈی اے کے قانونی دائرہ اختیار میں شامل ہیں۔
عدالت نے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے پاس جمع کرائے گئے کرائے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ نیشنل پارک میں عوام کی تفریح، ریسٹ ہاؤسز اور ہوٹل یا دیگر عمارتوں کی تعمیر پر مطلق پابندی عائد نہیں ہے، تاہم ایسی تمام تعمیرات ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے مطابق ہونا ضروری ہیں۔
44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ سے متعلق سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر نظرثانی کا 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔
فیصلے میں ملکیت، لیز، کرائے اور تعمیرات سے متعلق تنازعات کو شواہد اور شہادتوں کی روشنی میں سول عدالت کے ذریعے طے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے مونال کے بارے میں کیا فیصلہ دیا تھا؟
21 اگست 2024 کو اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں مونال ریسٹورنٹ سمیت دیگر تجارتی سرگرمیوں سے متعلق فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ نیشنل پارک میں ریستوران چلانے کے لیے دی گئی لیز، لائسنس، الاٹمنٹ یا اجازتیں متعلقہ وائلڈ لائف قوانین سے متصادم ہونے کی صورت میں قانونی اثر نہیں رکھتیں۔
سپریم کورٹ نے مونال، لا مونتانا اور گلوریا جینز سمیت متعلقہ تعمیرات خالی کرانے اور ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ نیشنل پارک کا بنیادی مقصد حیاتیاتی تنوع، جنگلات اور قدرتی ماحول کا تحفظ ہے اور تجارتی تعمیرات اس مقصد سے متصادم نہیں ہونی چاہئیں۔



