لاہور: سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ احسن بھون نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو اپنی ایل ایل بی ڈگری جعلی قرار دینے کے مبینہ بیان پر 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔
لیگل نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے سے متعلق مبینہ بیان بے بنیاد، جھوٹا اور ہتک آمیز ہے، جس سے ان کی ساکھ اور پیشہ ورانہ حیثیت کو نقصان پہنچا ہے۔
نوٹس کے مطابق احسن بھون نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال لوئر کورٹس کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرول ہوئے جبکہ 1992 میں ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ بنے۔
لیگل نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ احسن بھون نے 19 جولائی 2003 کو سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرولمنٹ حاصل کی۔
نوٹس کے مطابق ان کی قانونی پیشہ ورانہ حیثیت اور تعلیمی اسناد سے متعلق ریکارڈ موجود ہے۔
پنجاب یونیورسٹی سے ڈگری کی تصدیق کا دعویٰ
احسن بھون کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 21 جنوری 2026 کو پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے ان کی اسناد کو ویری فائیڈ قرار دیا۔
نوٹس کے مطابق اس کے باوجود احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے کا مبینہ بیان دیا گیا، جبکہ ڈگری جعلی ہونے کے الزام کے حق میں کوئی مستند دستاویزی ثبوت یا متعلقہ سرکاری ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
قانونی نوٹس میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری جعلی ہونے سے متعلق کوئی مستند ریکارڈ موجود ہے تواسے پیش کیا جائے، یا پھر کسی مجاز ادارے کا ایسا فیصلہ سامنے لایا جائے جس میں ڈگری کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا ہو۔
بیان واپس لینے اور ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر ڈگری جعلی ہونے کے الزام کی حمایت میں مستند ریکارڈ موجود نہیں تو کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اپنا بیان واپس لیں اور احسن بھون سے معذرت کریں۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی عوامی بیان یا الزام کی بنیاد پر کسی تعلیمی ڈگری کی قانونی حیثیت طے نہیں کی جاسکتی، اس کے لیے متعلقہ یونیورسٹی یا مجاز ادارے کا مستند ریکارڈ اور فیصلہ ضروری ہے۔
احسن بھون کی جانب سے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر سے 5 ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف قانون کے مطابق قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احسن بھون کی ڈگری کے حوالے سے کسی بھی دعوے کی بنیاد مستند دستاویزی ریکارڈ ہونا چاہیے، محض الزام یا عوامی بیان کو ڈگری جعلی قراردینے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔



