سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرکے 3 خارجی دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی ’عزم استحکام ویژن‘ کے تحت فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جو دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
گزشتہ روز بھی ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی میں 8 دہشتگرد ہلاک کیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں فتنہ الخوارج کے 3 اہم سرغنہ بھی شامل تھے۔
ڈی آئی خان ٹانک، جنوبی وزیرستان بالا اور جنوبی وزیرستان زیریں کے اضلاع پر مشتمل خیبر پختونخوا کی اہم ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔
26 ستمبر کو ضلعے کے علاقے درازندہ میں قائم امن میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر خود کش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہوئے۔
ڈی آئی خان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد ہفتے کے روز سے دفعہ 144 بھی نافذ ہے جبکہ ضلعے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہیں۔
سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
دریں اثناء صدرِ مملکت آصف زرداری نے ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگرد عناصر کے مذموم عزائم ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے اور ’عزمِ استحکام ویژن‘ کے تحت کارروائیاں دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جاری رکھی جائیں۔
علاوہ ازیں وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈی آئی خان میں خوارجیوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کرتے ہوئے فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں، خوارجیوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے والے سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر ناز ہے، قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔



