خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خود کش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہو گئے۔
ڈی پی او ضیا احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی طور پر امن چیک پوسٹ یا امن میلہ کے نام سے معروف مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت چیک پوسٹ پر محکمہ وائلڈ لائف، ایکسائز اور سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے مطابق واقعے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان کے دفتر کی جانب سے ہفتے کی شام جاری رپورٹ میں 12 اموات اور 35 زخمیوں کی تصدیق کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے محمد بلال، کسٹمز کے مزدور مستو خان اور فیصل عزیز شامل ہیں، ایکسائز کا ایک انسپکٹر اور ایکسائز کے تین مزدور بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔دیگر جاں بحق افراد میں اسامہ، گل میدانا بی بی، مکو بی بی، گل وریانہ بی بی اور محمد مہران شامل ہیں۔
ڈی پی او ضیا احمد نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ان کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی ٹیمیں واقعے کے 10 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی تھیں۔
ڈی پی او نے بتایا کہ قریبی علاقے میں موجود پاک فوج کی ایک فارمیشن نے بھی فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر رسپانس دیا۔
جائے وقوعہ پر کسی ممکنہ خطرے کے حوالے سے سوال پر ڈی پی او نے کہا کہ اب وہاں کوئی خطرہ موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد علاقے کو محفوظ بنایا گیا اور سکیورٹی اداروں نے صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ سات دنوں کے اندر ہونے والا دہشت گردی کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 18 ستمبر کو کوہاٹ پرانی پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکہ سے 23 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، شہداء میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔
زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کی گئی جہاں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں ریسکیو 1122 کی 6 ایمبولینسز، ایک فائر وہیکل اور 25 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔
زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر فائرنگ، 2 ریسکیو اہلکار شہید
ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے کے بعد زخمیوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو ایمبولینس کو فتنہ الخوارج کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 2 ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق ریسکیو ایمبولینس سول مریضوں کو درازندہ سے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر رہی تھی کہ راستے میں اسے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایمبولینس میں موجود دو ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے۔ ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔
شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، صدر مملکت کا اظہار افسوس
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت نے حملے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔صدر مملکت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کے لیے دہشتگردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
صدر مملکت نے ہدایت کی کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کے ذریعے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
صدر مملکت نے شہدا کے درجات کی بلندی، سوگوار خاندانوں کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، وزیراعظم کا اظہار مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کے محافظوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے شہدا کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
ڈی آئی خان میں دہشتگردی کے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں آج ہونے والے دہشتگردی کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سہیل آفریدی نے دھماکے میں نوجوانوں اور شہریوں کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر انہیں گہرا دکھ ہے۔
انہوں نے شہدا کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
سہیل آفریدی نے شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
خودکش حملے کی شدید مذمت، دہشتگردی کے خلاف قوم کا عزم متزلزل نہیں ہوگا، وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور ملک میں امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اور قوم دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور امن کے قیام کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے شہدا کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
درازندہ میں امن میلے کے قریب چیک پوسٹ پر دھماکہ قابل مذمت ہے، شفیع جان
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلے کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے۔ شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا کہ پولیس، سکیورٹی فورسز اور عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، جن کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشتگرد اپنے مذموم عزائم کے ذریعے خیبرپختونخوا کے عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
وزیر اطلاعات نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔



