وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی اور ڈرون حملے کئے جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 2 مختلف مقامات پر موجود کیمپ مکمل تباہ ہو گئے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ڈرونز اور طیاروں کی مدد سے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ذخیرہ کیا گیا بھاری اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ کیمپوں اور پناہ گاہوں پر کی گئی ٹارگٹڈ فضائی کارروائی میں دہشتگردوں کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا۔
Update-Ghazab lil Haq
Islamabad, 01 October, 2026Through precise aerial and drone strikes, as reflected in the attached clip, terrorist hideout and camps belonging to Fitna al Khwarij and Fitna al Hindustan at two locations in areas under the control of the Afghan Taliban regime were comprehensively destroyed.
Large quantities of weapons and ammunition stockpiled at the terrorist hideouts / camps were also destroyed through calibrated and precisely targeted aerial strikes.
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 1, 2026
دو دن قبل بھی پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
دو مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
وزارت اطلاعات نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں دو مقامات پر فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہو گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا، کارروائی کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی، یقینی بنایا گیا کہ شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے، پاکستان کے لیے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔
پاکستان کو افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ لاحق
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ لاحق ہے، افغانستان کا دہشتگردی کا مرکز بنے رہنا پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے، عزمِ استحکام کے وژن کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔



