برمنگھم: قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کو برطرف کرنے اور گزشتہ ہفتے لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کپتان بابر اعظم کے لیے بھی حیران کن تھا۔
ایجبسٹن میں آخری ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس میں بابر اعظم نے کہا کہ یہ خبر میرے لیے بھی نئی تھی، مجھے بھی ان فیصلوں کا بعد میں ہی پتا چلا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ کے دوران اب تک دونوں ٹیسٹ بری طرح سے ہار چکی ہے۔ لارڈز میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 194 رنز کی شکست کے بعد انگلش ٹیم نے تین میچوں کی سیریز اپنے نام کرلی تھی، جس کے بعد سرفراز احمد کو پاکستان کا ہیڈ کوچ اور عمر گل کو بولنگ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ بالترتیب وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو مقرر کیا گیا۔
سیریز کے دوران ہی سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کردیا گیا، جن میں تجربہ کار بلے باز امام الحق، محمد رضوان اور سلمان علی آغا بھی شامل تھے، جبکہ برطانیہ بھیجے گئے پانچ متبادل کھلاڑیوں نے اس سے قبل کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیلا ہے۔
بابر اعظم نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیم نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس کے باعث نتائج بھی توقعات کے مطابق نہیں آئے۔
انہوں نے برمنگھم میں پری میچ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم اچھا نہیں کھیلے گی اور نتائج نہیں دے گی تو ایسی باتیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ لارڈز ٹیسٹ میں کنڈیشنز کے مطابق بہترین ٹیم میدان میں اتاری تھی، تاہم نتیجہ اچھا نہیں آیا۔ پلیئنگ الیون بنانے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔
بابر اعظم نے نئے کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کے لیے اپنا نام بنانے اور صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا یہ سنہرا موقع ہے۔ ہر فارمیٹ میں بطور کھلاڑی پرفارم کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایجبسٹن گراؤنڈ ماضی میں ان کے لیے خوش قسمت رہا ہے اور کوشش ہو گی کہ اس ٹیسٹ میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔



