کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری لانے کے منصوبے کے تحت میلبورن رینیگیڈز کی فروخت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ اور چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے منگل کو اعلان کیا کہ بورڈ نے ریاستی کرکٹ اداروں کو بگ بیش لیگ کی فرنچائزز میں حصص یا مکمل ملکیت نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی اجازت دینے پر باضابطہ اتفاق کرلیا ہے۔
اس عمل کا آغاز میلبورن رینیگیڈز سے ہوگا، جس کے لیے نجی سرمایہ کاروں سے بولیاں طلب کی جائیں گی۔ کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کوشش ہے کہ میلبورن رینیگیڈز 2028-2027 کا سیزن نئی ملکیت کے تحت کھیلے۔
کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ رینیگیڈز کی فروخت کے عمل کے نتائج سامنے آنے کے بعد دیگر بگ بیش لیگ فرنچائززکو بھی مارکیٹ میں لانے پر غور کیا جائے گا۔ اس کے لیے ’’سیلف ڈیٹرمینیشن ماڈل‘‘ اختیار کیا جائے گا، جس کے تحت ہر ریاستی رکن کو اپنے کلب اور کمیونٹی کے لیے موزوں راستے کا جائزہ لینے کا اختیار ہوگا۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق نجی سرمایہ کاری کا مقصد کمیونٹی کرکٹ، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پاتھ ویز، ایلیٹ کرکٹ، بگ بیش لیگ اور ویمنز بگ بیش لیگ میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے جبکہ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔
بورڈ کے مطابق نجی سرمایہ کاری سے آسٹریلوی کرکٹ کی مالی بنیاد مضبوط کرنے، شائقین کے ساتھ روابط بڑھانے اور تجارتی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔
مائیک بیئرڈ نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستی ارکان بگ بیش لیگ اور ویمنز بگ بیش لیگ میں سرمایہ کاری اور ان کی ترقی کے لیے متحد ہیں۔ ان کے مطابق نجی سرمایہ کاری کا دروازہ کھولنا آسٹریلوی کرکٹ کے طویل مدتی مستقبل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک سوچا سمجھا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ میلبورن رینیگیڈز کی فروخت کا عمل سیلف ڈیٹرمینیشن ماڈل میں پہلا قدم ہے اور آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ایک اہم مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا نے واضح کیا کہ نجی سرمایہ کاری کے باوجود اہم معاملات پر کنٹرول کرکٹ آسٹریلیا اور اس کے ریاستی ارکان کے پاس رہے گا۔ ان معاملات میں بین الاقوامی شیڈولنگ، کھلاڑیوں کی دستیابی، بگ بیش لیگ کی تنخواہوں کی حد، برانڈنگ تجاویز، کلب لائسنس کے لیے کم از کم قیمت اور سرمایہ کاروں کی منظوری شامل ہیں۔
تاہم بگ بیش لیگ کی نجکاری کا یہ اعلان آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مالی معاملات پر جاری اختلاف کے باعث اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو پال مارش نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے کے اعلان سے ان امور پر کام کی ضرورت تبدیل نہیں ہوئی جو بگ بیش لیگ کی نجکاری کے لیے ضروری ہیں۔
پال مارش کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان نئے ایم او یو پر مذاکرات جاری ہیں تاہم دونوں فریق اس وقت ایک معاہدے سے کافی فاصلے پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلین کرکٹ، کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم کی منظوری کے بغیر کسی ٹیم کی فروخت آگے نہیں بڑھا سکتی۔
موجودہ ایم او یو کے تحت آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن آسٹریلین کرکٹ کی مجموعی آمدنی کا 27.5 فیصد حاصل کرنے کی حقدار ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ بگ بیش لیگ کلبوں میں حصص یا ملکیت کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی اسی آمدنی میں شامل ہونی چاہیے۔
دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کا مؤقف ہے کہ کھلاڑی صرف فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع یا سود میں سے 27.5 فیصد کے حقدار ہوں گے۔
آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے فروری میں مذاکرات کے دوران تجویز دی تھی کہ وہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 27.5 فیصد پر اپنا دعویٰ چھوڑ سکتی ہے، تاہم اس کے بدلے کھلاڑیوں کے مستقل ریونیو شیئر میں اضافہ کیا جائے۔ یہ حصہ مبینہ طور پر 33 فیصد تک بڑھانے کی تجویز تھی تاہم کرکٹ آسٹریلیا نے اسے مسترد کردیا۔
ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ پال مارش کے ساتھ ان کا اچھا رابطہ ہے، تاہم دونوں فریق اس وقت مذاکرات کی نوعیت کے حوالے سے کافی فاصلے پر ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ایم او یو 2028 کے اختتام تک نافذ ہے اور اس لیے مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے۔
گرین برگ نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے منصوبے کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کے ہاتھ میں مزید رقم پہنچانا ہے اور انہیں یقین ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔



