آسٹریلوی سابق فاسٹ بولر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے پاکستان کرکٹ کے حالیہ معاملات پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور عاقب جاوید پر شدید تنقید کی ہے۔
برطانوی ویب سائٹ کو ایک انٹرویو میں جیسن گلیسپی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی غیر یقینی اور انتشار کا شکار صورتحال سے وہ پہلے ہی آگاہ تھے جب انہوں نے اپریل 2024 میں قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔
سابق کوچ کے مطابق پاکستان کی کوچنگ ان کے کیریئر کی نمایاں ذمہ داریوں میں شامل ہوسکتی تھی کیونکہ پاکستان ایک بڑی بین الاقوامی ٹیم ہے جہاں کرکٹ لوگوں کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
جیسن گلیسپی نے کہا کہ انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں حالات اتار چڑھاؤ اور انتشار کا شکار رہتے ہیں، تاہم وہ اپنے کیریئر میں ایک نئے چیلنج کی تلاش میں تھے، اسی لیے انہوں نے یہ موقع قبول کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام شروع کرتے وقت انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کا اہم کردار ملک میں فاسٹ بولنگ کے پرانے مقام کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔
جیسن گلیسپی کے مطابق اس وقت منصوبہ یہ تھا کہ ایسی پچز تیار کی جائیں گی جہاں گیند میں باؤنس اور کیری موجود ہو اور فاسٹ بولنگ کو فروغ ملے کیونکہ یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ پاکستان میں فاسٹ بولنگ کا رجحان کم ہورہا ہے تاہم ان کے بقول عاقب جاوید کی تقرری کے بعد صورتحال بنیادی طور پر تبدیل ہوگئی۔
گلیسپی نے دعویٰ کیا کہ عاقب جاوید کے آنے کے بعد پاکستان کرکٹ کے ساتھ ان کا تعلق مکمل طور پر بدل گیا اور انہیں محسوس ہوا کہ عاقب جاوید تقریباً ہر معاملے کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔
سابق ہیڈ کوچ کے مطابق ابتدا میں وہ ٹیسٹ ٹیم کی نگرانی، کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سلیکشن میں بھی کردار ادا کررہے تھے لیکن بعد میں انہیں ان معاملات سے بھی الگ کردیا گیا۔
جیسن گلیسپی نے کہا کہ پی سی بی کے ساتھ کام کرنے کے تجربے نے انہیں کوچنگ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا۔ ان کے مطابق اس پورے تجربے نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کیا، ان کا اعتماد کم ہوا اور وہ یہ سوچنے لگے کہ آیا انہیں کرکٹ کوچنگ سے وابستہ رہنا بھی چاہیے یا نہیں۔
انہوں نے عاقب جاوید پر الزام عائد کیا کہ انہیں نظرانداز اور کمزور کیا گیا اور وہ اس کا ذمہ دار عاقب جاوید کو سمجھتے ہیں۔
گلیسپی نے دعویٰ کیا کہ عاقب جاوید کی جانب سے ابتدا ہی میں اپنی بالادستی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی اور معاملات میں باہمی تعاون کے بجائے اپنی مرضی کو ترجیح دی گئی۔
ان کے مطابق عاقب جاوید کو چیئرمین اور بورڈ کی حمایت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتے تھے۔
جیسن گلیسپی نے کہا کہ عاقب جاوید دوسروں کی تجاویز، خیالات اور رائے کو قبول نہیں کرتے تھے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا انداز ’’میری بات مانو یا راستہ چھوڑ دو‘‘ جیسا تھا۔
غیر ملکی کوچز کی پاکستان میں کم موجودگی پرتنقید مسترد
سابق ہیڈ کوچ نے عاقب جاوید کی جانب سے ان اور سابق وائٹ بال ہیڈ کوچ گیری کرسٹن کے پاکستان میں کم وقت گزارنے سے متعلق تنقید کو بھی مسترد کردیا۔
گلیسپی نے کہا کہ انہیں اور گیری کرسٹن کو پاکستان میں وقت گزارنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور دونوں نے ٹریننگ کیمپس، ڈومیسٹک کرکٹ دیکھنے اور سیریز کی تیاری کے لیے پاکستان میں موجود رہنے پر بات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب کوچنگ کی ذمہ داریاں دو کوچز میں تقسیم ہوں اور کرکٹ نہ کھیلی جارہی ہو تو غیر ملکی کوچز کے لیے کچھ عرصے کے لیے اپنے ملک واپس جانا معمول کی بات ہے۔
جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید کے بارے میں اپنی سابقہ رائے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ بچپن میں پاکستان کے فاسٹ بولرز کو دیکھتے اور پسند کرتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے وسیم اکرم، وقار یونس اور عاقب جاوید کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عاقب جاوید کے ساتھ کام کرنے کے بعد ان کی ان کے بارے میں وہی پسندیدگی باقی نہیں رہی۔
مائیک ہیسن کو ’’یس مین‘‘ نہ بننے کا مشورہ
جیسن گلیسپی نے پاکستان کے موجودہ وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں اور صرف ہاں میں ہاں ملانے والے کوچ نہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ مائیک ہیسن اچھے انسان اور بہترین کوچ ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ صرف تنخواہ کی خاطر پاکستان کرکٹ کے موجودہ معاملات میں الجھنے سے گریز کریں گے۔
گلیسپی نے دعویٰ کیا کہ پی سی بی نے انہیں اب بھی ہزاروں ڈالر ادا کرنے ہیں تاہم انہوں نے اپنی پالیسی اور اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔
ان کے مطابق وہ خاموش رہ کر ہر بات سے اتفاق کرسکتے تھے اور اپنی تنخواہ لے سکتے تھے، لیکن یہ ان کی شخصیت نہیں تھی۔
پس پردہ مخالفت کا الزام
جیسن گلیسپی نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اپنے تقریباً آٹھ ماہ کے دور میں انہیں مسلسل کمزور کرنے اور ان کی جگہ کسی اور کو لانے کی کوششوں کا علم تھا۔
ان کے مطابق پاکستان کرکٹ سے وابستہ لوگوں نے انہیں بتایا تھا کہ عاقب جاوید پس پردہ ان کے خلاف باتیں کررہے تھے۔
گلیسپی نے کہا کہ وہ عاقب جاوید کی جانب سے ان کے بارے میں منفی باتیں کرنے سے تنگ آچکے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ قانونی کارروائی پر غور کریں گے۔
انہوں نے پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ان کے لیے دل توڑنے والا ہے۔گلیسپی نے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ عاقب جاوید کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ وہاں موجود ہیں، پاکستان کرکٹ پیچھے جاتی رہے گی۔
ان کے مطابق پاکستان کرکٹ کو مضبوط قیادت اور مضبوط کرکٹ شخصیات کی ضرورت ہے، درست کوچز مقرر کیے جائیں اور انہیں قیادت کے معاملات میں کردار ادا کرنے کا اختیار دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین اور بورڈ کے دیگر افراد کا دفاتر میں بیٹھ کر کپتان کا انتخاب کرنا درست طریقہ نہیں۔
جیسن گلیسپی کے مطابق پاکستان کرکٹ کو ایک درست کوچ کی ضرورت ہے، اسے وقت دیا جائے، حالات کو معمول پر آنے کا موقع دیا جائے، پھر کوچ کو کپتان کے انتخاب اور ٹیم کی ازسرنو تعمیر کی ذمہ داری دی جائے۔ اس طریقے سے پاکستان کرکٹ کو دوبارہ آگے بڑھایا جاسکتا ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کرکٹ آگے نہیں بڑھ رہی۔
جیسن گلیسپی کے الزامات پر پی سی بی اور عاقب جاوید کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔


