قومی ٹیم کے سابق اوپنر احمد شہزاد نے بابراعظم کے دوبارہ کپتان بننے پر شدید تنقید کی ہے۔
احمد شہزاد نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ بابر اعظم کی کپتانی میں دلچسپی کی وجہ سے ہوا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو دوبارہ کپتان بنایا گیا، حالانکہ وہ پہلے بھی بطور کپتان کامیاب ثابت نہیں ہوئے تھے۔
احمد شہزاد نے کہا کہ بابر اعظم نے گزشتہ 30 سے 32 اننگز میں تقریباً 550 رنز بنائے تھے اور اس دوران ان کی بیٹنگ فارم پر بھی مسلسل سوالات اٹھ رہے تھے، اس کے باوجود انہیں دوبارہ قیادت دے دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے یہ بات کی جا رہی تھی کہ کپتانی کے باعث بابر اعظم کی بیٹنگ متاثر ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ایک بار پھر کپتان بنا دیا گیا ہے، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی دوبارہ کپتانی کے خواہش مند تھے۔
احمد شہزاد کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو کپتانی پسند ہے کیونکہ اس کے ساتھ شہرت، اختیارات اور دیگر سہولتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں، کپتان کو خصوصی مراعات، الگ رہائش، زیادہ اختیارات اور بہتر الاؤنسز ملتے ہیں، جس کی وجہ سے بابر اعظم اس سے وابستہ ہو گئے۔
سابق اوپنر بلے باز نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بابر اعظم نے کپتانی صرف پاکستان کی خاطر قبول کی اگر ان کی کارکردگی کپتانی کے باعث متاثر ہو رہی تھی تو انہیں خود قیادت سے الگ ہو کر کسی نوجوان یا دوسرے کھلاڑی کو موقع دینا چاہیے تھا مگر بابراعظم نے دوبارہ یہ ذمہ داری قبول کر لی۔
سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے آگے ٹی ٹوئنٹی کے میچز نہیں ہیں، بنگلادیش سے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنی ہے تو بابر اپنی فارم کا فائدہ اٹھائیں۔
افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زادران انتقال کر گئے
ان کا کہنا تھا یہ مت سوچیں کہ آپ ٹیم میں آجائیں گے اور ٹی ٹوئنٹی کے کپتان بن جائیں گے، یہ سوچیں کہ اگلے دو ٹیسٹ میچز جتوانے ہیں۔
راشد لطیف نے کہا کہ ویسٹ انڈیز سے بھی ٹیسٹ میچز ہیں، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ہے، یہاں پر آپ ٹیم کو اوپر لے کر جائیں اور فائنل کھیلیں۔
