افغانستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شاپور زادران طویل علالت کے بعد 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے.
وہ گزشتہ کئی ماہ سے بھارت کے ایک اسپتال میں قوت مدافعت متاثر کرنے والی جان لیوا اور نایاب بیماری کے لیے زیرِ علاج تھے جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
شاپور زادران افغانستان کرکٹ کی ابتدائی کامیابیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والے کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کے دوران افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 44 ایک روزہ (ون ڈے) اور 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے اور اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے ٹیم کی کئی اہم فتوحات میں حصہ ڈالا۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
With profound grief and deep sorrow, the Afghanistan Cricket Board mourns the passing of former Afghanistan fast bowler Shapoor Zadran.
Shapoor Zadran was one of the foundation-laying figures of Afghanistan cricket, whose dedication,… pic.twitter.com/iPIAJ6HLkq
— Afghanistan Cricket Board (@ACBofficials) July 7, 2026
افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق شاپور زدران افغانستان کرکٹ کی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں شامل تھے، جنہوں نے اپنی لگن، محنت اور غیر متزلزل عزم کے ذریعے ملک میں کرکٹ کے فروغ اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے افغانستان کرکٹ کے ابتدائی سفر میں اہم کردار ادا کیا اور قومی ٹیم کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کی راہ ہموار کی۔
کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شاپور زدران نہ صرف میدان میں اپنی کارکردگی بلکہ میدان سے باہر بھی نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک متاثر کن شخصیت تھے۔ ان کی جدوجہد، ثابت قدمی اور کھیل سے محبت نے نوجوان نسل کو بڑے خواب دیکھنے اور افغانستان کرکٹ کے روشن مستقبل پر یقین رکھنے کی ترغیب دی۔
بورڈ نے شاپور زادران کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ملک کی کرکٹ کا ایک اہم ستون قرار دیا جب کہ کرکٹ حلقوں اور شائقین کی جانب سے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
