دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کیلئے قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا،بابراعظم کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیاگیا ،بابر اعظم نے2020سے2023تک بھی قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کی تھی۔
شاہین شاہ آفریدی اورنعمان علی کوٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا،فاسٹ بولر حسن علی کو ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا،سعود شکیل فٹنس کی وجہ سے ٹیسٹ ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔

عامر جمال،عبداللہ فضل ،علی عثمان ،اذان اویس ،امام الحق ٹیم میں شامل ہوگئے ، خرم شہزاد ،محمد عباس ،محمد علی ،محمد اویس ظفر،غازی غوری بھی ٹیم کا حصہ ہونگے۔محمد رضوان ،ساجد خان ،سلمان علی آغا ،شان مسعود ،عبیدشاہ بھی اسکواڈ میں شامل کرلئے گئے۔
قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے
اس موقع پر عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ 16رکنی اسکواڈ ویسٹ انڈیز جائے گا،سعود شکیل کی فٹنس بہتر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
مصباح الحق کو سلیکشن کمیٹی میں ابھی 6ماہ بھی نہیں ہوئے ،سرفراز احمد کو بھی سلیکشن کمیٹی میں آئے 6ماہ ہوئےہیں،ٹیم کی تیاری کافی بہترہے۔اب کوشش کی ہے کہ تبدیلی لائی جائے تاکہ ٹیم کے نتائج اچھے ہوں۔شاہین شاہ آفریدی زبردست بالر ہیں۔
ہمیں ریڈبال کرکٹ میں مسائل کا سامنا ہے،بابراعظم نےکپتانی کیلئے کوئی شرائط نہیں رکھیں،کھلاڑیوں کواپنی پرفارمنس سے ٹیم میں جگہ کنفرم کرنی ہوگی،سلیکشن کمیٹی یابورڈ یہ نہیں چاہےگاکہ ہرسیریزمیں نیا کپتان لایا جائے۔
قومی ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی اسکاٹ لینڈ کرکٹ ٹیم کا حصہ بن گئے
کپتانی کیلئے مستقل مزاجی کےساتھ موقع دینا چاہیے،امیدہےبابر اعظم 2 سے 3سال ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرینگے۔
اس موقع پرمصباح الحق کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں تسلسل بہت اہم ہے، اسی سے کامیابی ملتی ہے، دیکھنا ہوتا ہے کہ کپتانی یا پرفارمنس کے نتائج کیا آتے ہیں،دیکھنا یہ ہوتا ہےکہ بحیثیت پلیئراورکپتان کارکردگی میں تسلسل ہے یا نہیں۔ٹی ٹوئنٹی کیلئےٹی ٹوئنٹی کی پرفارمنس ہی معنی رکھتی ہے،بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی کی بنیاد پر کپتان نہیں بنایا گیا۔
