امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی عوام کی رائے میں واضح تقسیم سامنے آگئی ہے۔
رائٹرز کے تازہ سروے کے مطابق ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکا پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے، جبکہ نسبتاً کم افراد اسے امریکی طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایران معاہدے پر قائم نہیں رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے، ٹرمپ کی دھمکی
پول کے نتائج کے مطابق 35 فیصد امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور کشیدگی کے بعد امریکا کی عالمی حیثیت اور طاقت متاثر ہوئی ہے اور ملک پہلے کے مقابلے میں کمزور نظر آ رہا ہے۔ اس کے برعکس صرف 23 فیصد امریکیوں نے رائے دی کہ اس تنازع کے بعد امریکا ایران کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں آیا ہے۔
سروے میں جنگ کے مالی اور سیاسی اثرات سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ نتائج کے مطابق 52 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم اور اس پر آنے والے اخراجات حاصل ہونے والے نتائج کے مقابلے میں مناسب نہیں تھے۔ ان شہریوں کا مؤقف ہے کہ جنگ پر خرچ ہونے والے وسائل کو داخلی مسائل، معیشت، صحت اور دیگر عوامی شعبوں پر صرف کیا جانا چاہیے تھا۔
معاہدہ نہ ہونے پر آبنائے ہرمز میں ٹول عائد کر سکتے ہیں ، ٹرمپ
دوسری جانب 24 فیصد شرکا نے جنگی کارروائیوں کو فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی مفادات کے تحفظ اور خطے میں امریکا کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ تاہم باقی شرکا نے اس معاملے پر غیر جانبدار رائے دی یا کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
رائٹرز پول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دوسری صدارتی مدت کی کم ترین سطح کے برابر ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خارجہ پالیسی، جنگی اخراجات اور اندرونی معاشی چیلنجز عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اٹلی کی وزیر اعظم کا ٹرمپ کو اپنی مقبولیت پر توجہ دینے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سروے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد طویل فوجی تنازعات اور بیرون ملک مداخلت کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات امریکی سیاست اور آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
