انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کو ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے 26 نومبر کے احتجاج کے تناظر میں درج 29 مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت میں 11 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے ان تمام مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل فیصل ملک ایڈووکیٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور دلائل دیے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سابق خاتونِ اول کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے اس میں 11 جولائی تک کی توسیع کے احکامات جاری کیے، جبکہ تمام متعلقہ مقدمات کی مزید سماعت بھی 11 جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
واضح رہے کہ بشریٰ بی بی 26 نومبر 2024 کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پاکستان تحریک انصاف کی دیگر قیادت کے ہمراہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئیں تھیں۔ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا جس کے بعد بشریٰ بی بی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت توڑ پھوڑ اور کارسرکار میں مداخلت کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
انہی مقدمات میں پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علمیہ خان بھی نامزد ہیں جنہوں نے دو ہفتے قبل انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں استغاثہ کے 21 گواہان کو طلب کیے جانے کی درخواست دائر کی تھی۔
ان مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع پانے والی بشریٰ بی بی 190 ملین پاؤنڈ کے کرپشن کیس میں 7 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ دسمبر 2025 میں انہیں توشہ خانہ 2 کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جو مئی 2021 کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی جیولری سیٹ کی خریداری کے گرد گھومتا ہے۔
