اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے ان کی گفتگو بالکل واضح، سچی اور حقائق پر مبنی تھی۔ تاہم بعض عناصر مذموم عزائم کے تحت ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کوئی بھی کشمیر کو پاکستان سے اور پاکستان کو کشمیر سے الگ نہیں کر سکتا۔ 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف طویل مزاحمت، شہادتوں اور قید و بند کی ایک داستان ہے۔ کشمیر کاز کے ساتھ پاکستان کی وابستگی پانچ جنگوں کے شہداء کے خون اور ملک کے مستقل اصولی مؤقف سے عیاں ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کاز کے خلاف اٹھنے والی بیرونی ایجنڈے کی آوازوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور 1947 کے مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کریں اور ان کا احترام کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت
انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کو کم تر سمجھنا دراصل کشمیر کاز کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ کشمیریت کی تعریف کسی پیدائشی سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ گزشتہ 8 دہائیوں پر محیط قربانیوں، جدوجہد اور وابستگی سے ہوتی ہے۔
اس سے قبل خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا اور عالمی برادری بھی اس کوشش کو تسلیم کر رہی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔
