برطانیہ میں ٹائپ ون ذیابیطس (Type 1 Diabetes) کے علاج میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
بیماری کو مؤخر کرنے والی دنیا کی پہلی دوا ٹیپلیزومیب (Teplizumab) کو برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس میں استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔
برطانوی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (NICE) نے اس دوا کی منظوری دی۔
ماہرین کے مطابق یہ دوا ٹائپ ون ذیابیطس کا مکمل علاج نہیں کرتی، تاہم بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے مرحلے کو 3 سال تک مؤخر کر سکتی ہے۔
ٹائپ ون ذیابیطس ایسی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کو انسولین بنانے نہیں دیتا۔ یہ بیماری عموماً بچپن یا نوجوانی میں ظاہر ہوتی ہے جس کے باعث مریض کو زندگی بھر انسولین استعمال کرنا پڑتی ہے۔
لمبی عمر اور صحت مند بڑھاپا؛ نئی تحقیق نے جینیاتی راز بے نقاب کر دیے
یہ دوا 8 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے منظور کی گئی ہے جن میں بیماری ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں تشخیص ہو چکی ہو لیکن علامات ابھی ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو کئی سال تک معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور انہیں بیماری کے مکمل بوجھ کا سامنا کرنے سے قبل اضافی وقت حاصل ہو گا۔
یہ دوا مدافعتی نظام کو لبلبے کے خلیات پر حملہ کرنے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ دوا 14 روز تک مسلسل روزانہ ڈرپ کے ذریعے دی جاتی ہے، جس کے بعد علاج مکمل ہو جاتا ہے۔
دوا ساز کمپنی سونوفی(Sanofi) کی تیار کردہ دوا جسے Tzield کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، NHS کو رعایتی قیمت پر فراہم کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو تو یہ دوا ہزاروں لوگوں کو کئی سال تک انسولین پر انحصار سے بچا سکتی ہے۔
