امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی کوئی ٹول نہیں ہو گا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہونے پر امریکا مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی اخراجات کے بدلے ٹول عائد کر سکتا ہے۔ ٹولز صرف امریکا کے حق میں اور امریکا کی جانب سے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے نگہبان فرشتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کئی دہائیوں سے خطے کی امن و سلامتی کیلئے بھاری اخراجات برداشت کرتا آیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ پسند نہ آیا تو ایران پر دوبارہ حملہ کردوں گا، ٹرمپ
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، جبکہ امریکا کے سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری آمدورفت بدستور جاری ہے۔
واضح رہے آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی اس گزرگاہ کی اہمیت عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے انتہائی زیادہ ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 20, 2026
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے آج سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوں گے۔
