اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت میں بیلسٹک میزائل سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بھائی مسعود پزشکیان کو دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ امریکا ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد امن قائم ہو گا۔
شہباز شریف نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں ہاتھ تھامے۔ صدر مسعود پزشکیان اور ان کے وفد کے دورہ پاکستان پر بہت خوشی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان عظیم ملک کے عظیم رہنما ہیں۔ اور بطور ڈاکٹر ایرانی صدر کی انسانیت کے لیے بھی بہت خدمات ہیں۔ بہت خوشی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اور بطور ثالث پاکستان نے امن عمل کے لیے خلوص نیت سے کاوشیں کیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات بھی بہت اہمیت کے حامل رہے۔ بحران کے دوران ایران کے عوام نے مثالی جرأت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت بھی بڑا نقصان ہے۔ مشکل وقت میں ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران ہمسائے ہی نہیں ہزاروں سال کی تہذیب سے بھی جڑے ہیں۔ جبکہ ایران کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ثالثی عمل میں پاکستان پر اعتماد کے اظہار پر ایرانی قیادت کے مشکور ہیں۔ اور امن عمل میں امیر قطر، سعودی ولی عہد، ترکیہ اور مصر کے صدور کی حمایت پر بھی مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ بھائیوں سے جیسے تعلقات ہیں۔ جبکہ پاکستان اور ایران کے بھائی چارے پر کوئی سوال نہیں کرسکتا۔ آج ہم سب یہاں روشن مستقبل کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔ اور یقین دلاتا ہوں پاکستان امن اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان کی ثالثی کے لیے قابلیت پر ایران کے بھروسے کے مشکور ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ امن مذاکرات کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انتھک کوشش کی۔
انہوں ںے کہا کہ مفاہمتی یاداشت اور جنگ بندی کے لیے وقار اور عزت کے ساتھ دستخط کیے۔ اور برگن اسٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی اہمیت کے حامل رہے۔ قطر، سعودی عرب اور مصر کی کوششیں بھی قابل تحسین ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پائیدار معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت میں بیلسٹک میزائل سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ملک کے پاس بیلسٹک میزائل ہو اور دوسرے کے پاس نہیں۔ یہ بات ایجنڈے پر ہے اور نہ ہی اس پر کوئی گفتگو ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی وفد آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کرے گا ، آصف علی زرداری
انہوں ںے کہا کہ دنیا میں دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ دنیا بھر میں امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے والے بہت ہیں۔
