امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے لیے ایک اہم جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے محدود مدت کے لیے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایران 21 اگست تک عالمی منڈی میں خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت جاری رکھ سکے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برگن اسٹاک مذاکرات میں طے پانے والے فریم ورک کے تحت یہ اقدام کیاگیا ،امریکی قیادت دنیا کو محفوظ اورخوشحال بنانے کیلئے کوشاں ہے۔

جنرل لائسنس کے تحت مخصوص شرائط اور ضوابط کے ساتھ ایرانی توانائی کے شعبے سے متعلق بعض سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنا اور بعض جاری تجارتی معاملات کو مکمل کرنے کے لیے محدود وقت فراہم کرنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اس اجازت نامے کے تحت ایران خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے شعبے سے متعلق بعض تجارتی سرگرمیوں کو 21 اگست تک جاری رکھ سکتا ہے۔ تاہم اس مدت کے دوران تمام لین دین اور تجارتی سرگرمیوں کو امریکی قوانین اور لائسنس میں درج شرائط کے مطابق انجام دینا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فیصلے سے عالمی تیل مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے تیل کی فراہمی جاری رہنے سے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات میں کمی آسکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کار اس فیصلے کو واشنگٹن کی جانب سے ایک عارضی اور محدود نوعیت کا ریلیف قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام مکمل پابندیوں کے خاتمے کے مترادف نہیں بلکہ مخصوص مدت کے لیے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ہے، جس کا مقصد موجودہ معاہدوں اور کاروباری معاملات کو منظم انداز میں مکمل کرنا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے اقتصادی پابندیوں اور جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔ ایسے میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جنرل لائسنس کا اجرا بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقے اس فیصلے کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
م اس لائسنس کی مدت 21 اگست تک مؤثر رہے گی، جس کے بعد آئندہ حکمت عملی اور ممکنہ توسیع یا نئی پابندیوں سے متعلق فیصلہ امریکی حکام کی جانب سے کیا جائے گا۔
