امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے بلوم برگ کے مطابق دونوں ممالک جنیوا میں ہونے والے جی 7 اجلاس کے موقع پر ایک اہم مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اورعالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیر غور مفاہمتی مسودے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی تجویز شامل ہے، جو عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق امریکا ایران پر عائد بعض تیل پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی پر بھی آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔
معاہدے پر حتمی فیصلے کی تردید، قطر اور پاکستان ثالثی میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، ایران
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کے لیے 300 ارب ڈالر مالیت کے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبوں کی حمایت بھی کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق یقین دہانیاں کرائے گا۔
واضح رہے کہ جی 7 ممالک کا اجلاس 15 سے 17 جون تک جنیوا میں منعقد ہونے والا ہے، جہاں اس ممکنہ پیش رفت پر عالمی توجہ مرکوز رہے گی۔
