خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ ٹانک کے علاقے فقیرنی میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی فرید اور کانسٹیبل اختر زمان شہید ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے جبکہ بکتر بند گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
جنوبی وزیرستان میں دھماکا، قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق
واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کرسرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک جنڈولہ روڈ پر پولیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
گورنر نے شہید پولیس اہلکاروں کو ملک کا فخر قرار دیتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
گورنر نے واقعے میں زخمی اہلکاروں کو ہر ممکن طبی امداد یقینی بنانے کی ہدایات کے ساتھ انکی جلد مکمل صحت یابی کی دعا کی۔
واضح رہے کہ ٹانک میں تین ہفتے قبل بھی لقمان شہید پولیس چوکی پر دستی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔
