امریکا کے ایران پر حملے کے بعد ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کر دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق یہ حملے امریکی فوج کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرانے اور امریکی فورسز و بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور ایرانی فضائی دفاعی نظام، گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشنوں اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، سیریک اور جزیرہ قشم میں ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں سیریک میں ایک مواصلاتی ٹاور اور دو واٹر ٹینک تباہ ہوئے۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے اور اردن میں امریکی العزرق ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق العزرق بیس پر چار اہداف، جن میں ایف-35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل ہیں، کو نشانہ بنایا گیا۔
ٹرمپ کی درخواست پر ایران اسرائیل کا ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان
تاہم بحرین کے شاہی مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرینی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔ مختلف دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
