امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر نیا آپریشن شروع کیا گیا تو وہ “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔ ان کے بقول وہ پہلے ہی ایک بڑے حملے پر غور کر رہے ہیں اور امریکا اس حوالے سے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اسرائیل سے کہیں تو وہ دو منٹ میں جنگ میں شامل ہو جائے گا تاہم ایران کے خلاف نیا آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکا کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں۔
President Trump reportedly told Axios that he is "considering a massive attack" on Iran, saying the U.S. is "all set" for strikes "bigger than ever before." https://t.co/39mgzOq88s
— ABC News (@ABC) July 23, 2026
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اب تک کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچایا گیا جبکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان توانائی سے متعلق معاہدہ ابراہمی معاہدوں (Abraham Accords) میں سعودی عرب کی شمولیت سے مشروط ہے۔
ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس نئی شرط پر ابھی تک سعودی قیادت سے براہِ راست بات نہیں کی تاہم وہ ماضی میں سعودی حکام کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں سے متعلق گفتگو کر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ امریکا اس معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ سفارتی رابطے اور بات چیت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے سول جوہری معاہدے پر نئی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی ابراہمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہوگا۔
ایران مذاکرات کی بھیگ مانگ رہا ہے، اپنے اتحادیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، امریکی وزیرخارجہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دستخط شدہ جوہری معاہدہ منظور کیا جائے گا، تاہم اس کی تکمیل سعودی عرب کے “انتہائی قابل احترام اور کامیاب” ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے وابستہ ہے۔
ایک روز قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور ان کے سعودی ہم منصب نے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت سعودی عرب کو پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام کی ترقی میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔
