بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بالآخر نئی دہلی میں جاری طلبہ احتجاج پر پراسرار خاموشی توڑتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امتحانی پرچے لیک کرانے میں ملوث افراد کو فوری سزا دینے کے لیے “فاسٹ ٹریک” عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مظاہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم مودی کئی روز سے جاری طلبہ احتجاج پر بالکل خاموش تھے، اور اس معاملے پر عوامی سطح پر دیا گیا یہ ان کا پہلا ردعمل ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر مستعفی ہوں۔ اس معاملے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کیا، جس کے باعث پارلیمانی کارروائی مسلسل چوتھے روز بھی متاثر رہی۔
Saurav Das from Cockroach Janta Party (CJP).
He says talks on paper leak issue only after Education Minister Dharmendra Pradhan resigns; suggests meet at Jantar Mantar or Constitution Club. pic.twitter.com/JaIXM3Z6Bn
— Ankit (@Extreo_) July 23, 2026
بدھ کی شب نئی دہلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جہاں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔
یہ احتجاج 2014 سے اقتدار پر براجمان مودی کے لیے نوجوانوں کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ 2024 میں شروع ہونے والی ان کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران یہ ایک بڑا سیاسی بحران بن چکا ہے۔
مودی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل سب سے اہم ہے اور پرچہ لیک کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں کا مقصد مقدمات کو جلد نمٹانا ہے، کیونکہ بھارت کا عدالتی نظام طویل تاخیر کا شکار رہتا ہے۔
Nothing is more important than the welfare and future of our youth!
We have decided to set up fast-track courts to ensure swift and stringent punishment for those involved in paper leaks. Have directed the concerned authorities and officials to take all necessary steps in this…
— Narendra Modi (@narendramodi) July 23, 2026
دوسری جانب احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کے اعلان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ پرچہ لیک ہونے کی وجوہات ہیں، نہ کہ صرف بعد کی کارروائی۔
مودی نے نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا، راہول
اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔
You are the one who has harmed the future of our youth the most.
You allowed and encouraged the total capture and destruction of our education system – and protected every person responsible for it.
The students’ demands are clear:
1. Sack Dharmendra Pradhan.
2. Apologise to… https://t.co/0MK4wPMNiK— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 23, 2026
ادھر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دہلی میٹرو کے متعدد اسٹیشنز عارضی طور پر بند کر دیے گئے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج نہ صرف امتحانی نظام پر عدم اعتماد کی علامت ہے بلکہ نوجوانوں میں بے روزگاری اور نظامی مسائل کے خلاف بڑھتی بے چینی کو بھی ظاہر کرتا ہے، جس نے حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
