بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر دی۔
سلمان خان نے پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج ختم کرکے اپنے گھروں کو واپس جائیں، جبکہ سماجی کارکن سونم وانگچک سے بھی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلمان خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ طلبہ کی تعلیم اور سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں اپنی یا اپنے والدین کی پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
The students are at top priority, educationally n security-wise, so they need not worry and have their parents worried for them. The Honorable Prime Minister has tweeted, and I am sure that he will take strict action against all those people who are responsible for this leak. So… pic.twitter.com/89Ykfs5r4k
— Salman Khan (@BeingSalmanKhan) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کے بعد امتحانی پرچہ لیک کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، لہٰذا طلبہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔
سلمان خان نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا، “سونم، اب کافی ہو گیا دوست، بھوک ہڑتال مزید نہ بڑھائیں۔ اگر ضرورت پڑی تو بعد میں بھی جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے۔ اب کچھ کھا لیں، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے کھانا بھی بھیج دیتا ہوں۔”
واضح رہے کہ سلمان خان نے اس سے قبل بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی تھی، تاہم اب انہوں نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ اپیل ایک روز بعد سامنے آئی جب سلمان خان نے مبینہ NEET-UG 2026 پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اسے تعلیمی نظام کا سنگین مسئلہ قرار دیا تھا۔
دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبہ، والدین اور سماجی کارکن احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مبینہ امتحانی پرچہ لیک کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔
طلبہ کا احتجاج پرامن تھا، تشدد افسوسناک ہے،سلمان خان کا شدید ردعمل
اسی مطالبے کے حق میں سماجی کارکن سونم وانگچک نے طویل بھوک ہڑتال بھی کی، جس کے دوران ان کی صحت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
طلبہ تحریک نے حالیہ دنوں میں ملک بھر میں توجہ حاصل کی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کے مستقبل پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
