محکمہ موسمیات نے سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
موسلادھار بارشوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
سندھ کے مختلف علاقوں میں 25 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ کے 23 اضلاع کے لیے موسمیاتی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
Toba Tek Singh
It rained around 50 mms (approximately 2 inches) in the town pic.twitter.com/Dv75hKNby3
— omar r quraishi (@omar_quraishi) July 23, 2026
ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ سلمان شاہ کے مطابق حیدرآباد، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، لاڑکانہ اور خیرپور سمیت مختلف اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹنڈوالہیار، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیرآباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، لاڑکانہ اور ٹھٹھہ میں بھی ہلکی بارش کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کراچی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مون سون بارشوں کے پیش نظر مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔ ڈی واٹرنگ پمپس، ریسپانس گاڑیاں اور ضروری مشینری آپریشن کے لیے تیار ہیں۔
سلمان شاہ کے مطابق نشیبی علاقوں کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشینری فوری طور پر منتقل کی جائے گی۔ کراچی کے لیے 10، حیدرآباد اور میرپورخاص کے لیے 25 جبکہ سکھر اور لاڑکانہ کے لیے 15 ریسپانس گاڑیاں تیار رکھی گئی ہیں۔
پنجاب میں بارشوں نے تباہی مچادی ، مختلف حادثات میں 21 افراد جاں بحق ؛ لاہور میں اربن فلڈنگ
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈی واٹرنگ گاڑیاں فوری رسپانس کے لیے مختلف مقامات پر تعینات کی جائیں گی، جبکہ گاڑیوں کے ساتھ تکنیکی عملہ بھی موجود ہوگا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ نے کہا کہ کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے، صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کراچی سمیت تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور اداروں سے رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
