عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مختلف اقسام کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 99 ڈالر 70 سینٹ فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی بڑھتے ہوئے 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح اماراتی خام تیل مربن کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 106 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
Breaking: Oil prices hit $100 a barrel on Thursday for the first time since May, after attacks by Iranian-backed Houthi militants in the Red Sea threatened to squeeze global supplies further and reignite a global inflation shock.
Read more: https://t.co/yNv9WnsHhV pic.twitter.com/EDbOjCOCJv
— Financial Times (@FT) July 23, 2026
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جاری کشیدگی، سپلائی سے متعلق خدشات اور توانائی کی طلب میں اضافے کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے درآمدی ممالک کے توانائی اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے پاکستان میں اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردو بدل کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بڑی حد تک مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات سے جوڑا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کسی بڑے فوجی تنازع میں تبدیل ہوتی ہے تو خلیج فارس سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگا۔
مسلسل بڑے اضافوں کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
مشرق وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شامل ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل عالمی مارکیٹ تک پہنچتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ کسی بھی سکیورٹی بحران کی صورت میں اس راستے پر رکاوٹ کے خدشات فوری طور پر قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں صرف موجودہ سپلائی اور طلب ہی نہیں بلکہ مستقبل کے خطرات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایران پر ممکنہ حملے، جوابی کارروائی، یا خطے میں اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
