پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے شناختی کارڈ فعال رکھنے ، تصاویر اور ویڈیوز کے بارے میں اہم ہدایت جاری کر دی۔
پی ٹی اے نے صارفین کو موبائل سروس کی بندش سے بچنے کے لیے شناختی کارڈ فعال رکھنے کا حکم دیتے ہوئے الرٹ جاری کردیا۔
اتھارٹی نے ملک بھر کے تمام موبائل صارفین کے لیے ایک اہم ترین نوٹس جاری کردیاجس میں کہا گیا ہے کہ موبائل سروسز کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے صارفین اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کو ہر صورت فعال رکھیں۔
شناختی کارڈ کی منسوخی، زائد المیعاد ہونے یا کارڈ ہولڈر کے انتقال کی صورت میں متعلقہ سمز بند کر دی جائیں گی۔
پی ٹی اے نے کہا ہے کہ تین صورتوں میں صارفین کی موبائل سروس کسی بھی وقت معطل کی جا سکتی ہے، اگر زیرِ استعمال سم کے ساتھ منسلک شناختی کارڈ نادرا کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا ہو، اگر شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہو چکی ہو اور اگر سم کسی ایسے شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہو جو وفات پا چکا ہو۔
آن لائن دیکھی ہر تصویر یا ویڈیو پر فوراً یقین نہ کریں — یہ ڈیپ فیک بھی ہو سکتی ہے۔
جعلی مواد شہرت اور اعتماد کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشتوں میں غلط فہمیاں بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
کسی بھی غیر معمولی ویڈیو یا خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
پہلے… pic.twitter.com/VLIA2svN8j
— PTA (@PTAofficialpk) July 22, 2026
پی ٹی اے نے صارفین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جن صارفین کے شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہو چکی ہے وہ موبائل سروس کی بندش سے بچنے کے لیے نادرا سے فوری طور پر اپنے کارڈ کی تجدید کروائیں۔
دوسری جانب پی ٹی اے نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر نظر آنے والی ہر تصویر یا ویڈیو پر فوری یقین نہ کریں، کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ڈیپ فیک ویڈیوز اور تصاویر حقیقت سے بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔
جعلی یا تبدیل شدہ مواد نہ صرف افراد کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ خاندانی، سماجی اور ذاتی تعلقات میں بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے موبائل کال اور ڈیٹا پیکجز میں اضافہ کر دیا
پی ٹی اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی ویڈیو، تصویر یا خبر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پہلے سوچیں، پھر شیئر کریں کا اصول اپنانا ڈیجیٹل دور میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی اہم ضرورت ہے۔
