حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں جہاز ان کی جانب سے حال ہی میں نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی فورسز نے دو سعودی آئل ٹینکروں کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ دونوں جہازوں نے سعودی بندرگاہوں سے متعلق حوثیوں کی جانب سے عائد بحری پابندی کو نظر انداز کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا تھا کہ سعودی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایک ٹینکر کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگ گئی، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر تیل کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحیرہ احمر میں سفر کے دوران سعودی ملکیت والے جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی تاہم عملہ محفوظ ہے ۔
تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ، یمنی حوثیوں کی آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی
واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں دفترخارجہ کے ترجمان نے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو پھر ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق طاقت استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دی جانے والی دھمکیاں علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور بین الاقوامی بحری نظام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف سمندری آمد و رفت کی آزادی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی بحری نظام اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔
یمن کے حوثیوں نے یرغمال بنائے گئے 24 پاکستانیوں کو عملے سمیت رہا کر دیا، محسن نقوی
تاحال سعودی حکام نے حوثی باغیوں کے دعوے پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم اس سے قبل سعودی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ بحری جہازوں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
