بھارتی حکومت نے دارالحکومت دہلی میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران مرکزی علاقوں، بالخصوص جنتر منتر کے اطراف، موبائل ڈیٹا سروس معطل کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
خبر رساں ادارے نے دو ذرائع سے تصدیق کے بعد رپورٹ کیا ہے کہ بھارتی حکومت کے مطابق سکیورٹی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔
Yesterday, they cut-off internet. Today, they are shutting all shops around the protest. Is this how the national capital of the ‘mother of democracy’ reacts to a protest?
Mr. Modi is turning Delhi into a war zone. Numerous CRPF battalions are deployed, Delhi Police still… pic.twitter.com/t9H10AqOMO
— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) July 23, 2026
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں نوجوان پرچے لیک ہونے کے معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
‘یہ دہشت گرد نہیں، نوجوان طلبہ ہیں’، پریانکا گاندھی
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے مظاہرین کے اہلِ خانہ ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے، جبکہ مظاہرین کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
VIDEO | Parliament Monsoon Session: Congress MP Priyanka Gandhi Vadra on reported mobile internet suspension in areas near Jantar Mantar, says, “They have cut all the internet. What are they doing? These are not terrorists. Their parents and families will be worried because they… pic.twitter.com/Nqb8yaywe3
— Press Trust of India (@PTI_News) July 23, 2026
انہوں نے کہا، “یہ دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ نوجوان طلبہ ہیں۔ انٹرنیٹ بند کر کے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ اگر وزیراعظم ہر کامیابی کا کریڈٹ لیتے ہیں تو انہیں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔”
پریانکا گاندھی نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 برسوں میں 152 امتحانی پرچے لیک ہوئے، مگر کسی ایک کیس میں بھی سزا نہیں دی گئی، جو نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ڈیڑھ مہینہ خاموش رہنے کے بعد آج ہی اس بحران پر “فاسٹ ٹریک” عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اپوزیشن اور طلبہ تنظیمیں اس اقدام کو ناکافی قرار دے رہی ہیں اور مطالبات پر قائم ہیں۔
Nothing is more important than the welfare and future of our youth!
We have decided to set up fast-track courts to ensure swift and stringent punishment for those involved in paper leaks. Have directed the concerned authorities and officials to take all necessary steps in this…
— Narendra Modi (@narendramodi) July 23, 2026
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر مودی حکومت نے سخت طاقت کا استعمال کیا، طلبہ پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکے، اور احتجاج کو محدود کرنے کے لیے کئی مقامات پر میٹرو اسٹیشنز بند اور موبائل انٹرنیٹ معطل کیا۔
Tear gas and batons. Suspended metro services and mobile internet. Reported unnecessary and excessive use of force against peaceful protesters. Demonstrators in India were marching towards parliament to demand the resignation of a Union education minister following alleged… pic.twitter.com/TzAp5Xe9MS
— Amnesty International (@amnesty) July 21, 2026
دوسری جانب بھارتی مین اسٹریم میڈیا اور ٹی وی چینلز نے نہ صرف احتجاج کو کووریج نہیں دی بلکہ زیادہ تر مودی حکومت کے بیانیے کو ہی اجاگر کیا۔
