فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران کینیڈا آنے والے 175 غیر ملکی افراد نے سیاسی پناہ (اسائلم) کی درخواستیں دائر کر دی ہیں، جس کے بعد کینیڈین امیگریشن حکام نے ان درخواستوں کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
جیوزنیوز کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران ٹورنٹو اور وینکوور میں مجموعی طور پر 13 میچ کھیلے گئے، جن کے لیے کینیڈا نے تقریباً 26 ہزار ویزے جاری کیے تھے۔
دنیا بھر سے ہزاروں شائقین نے سیاحتی ویزوں کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، تاہم ان میں سے 50 فیصد سے زائد درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈا پہنچنے والے غیر ملکیوں میں سے اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چکے ہیں، جن پر کینیڈا کے پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کے مطابق انفرادی بنیادوں پر فیصلہ کیا جائے گا۔
امیگریشن حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے افراد کھلاڑی، ٹیم آفیشلز یا عام شائقین شامل ہیں۔
تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25، جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
یاد رہے کہ ورلڈ کپ سے قبل کینیڈین حکام نے واضح کیا تھا کہ کھیلوں کے ایونٹس کے لیے جاری کیے جانے والے ویزے مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اورمقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں غیر قانونی طور پر قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
