سندھ کابینہ نے خصوصی ٹاسک فورسز بنانے کی منظوری دے دی، گٹکا مافیا اور گندم کی خریداری کے بارے میں اہم فیصلے کر لیے گئے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی، جن میں گٹکا، ماوا اور مین پوری کے خلاف سخت کارروائی، گندم کی خریداری اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کا قیام شامل ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی اور گورنر ہاؤس کے ملازمین کی انشورنس میں توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ نے موسمیاتی تبدیلی، معیشت، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور پانی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے الگ الگ ٹاسک فورسز بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جن کی نگرانی متعلقہ محکموں کے وزراء کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گٹکا، ماوا اور مین پوری کے خلاف کریک ڈاؤن کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ ان کے خلاف مزید سخت قوانین نافذ کرنے اور سزاؤں میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سینئر وزیر نے کہا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے اور بعض عناصر نے بڑی مقدار میں گندم چھپا رکھی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت پاسکو سے 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدے گی، جبکہ 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
Sindh Information Minister Sharjeel Inam Memon said the media remains silent over Lahore's rainfall, but would run special transmissions if the same situation occurred in Sindh. #TOKReports #SharjeelMemon #LahoreRain pic.twitter.com/WgREMehOpD
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) July 23, 2026
شرجیل میمن نے کہا کہ قانون کے مطابق گندم کی نقل و حرکت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، تاہم پنجاب حکومت نے اس حوالے سے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر میں چین کے صوبہ حنان میں ہونے والی کانفرنس میں سندھ حکومت کا وفد شرکت کرے گا، جس میں سندھ کی بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا، اس کے علاوہ کنری مرچ منڈی کے قیام کے لیے 22 ایکڑ اراضی مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کے صحت انشورنس پروگرام میں مزید 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے جبکہ آبی مسائل، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق الگ الگ ٹاسک فورسز تشکیل دی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ان کی سفارشات کی روشنی میں پالیسی فیصلے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گٹکا، مین پوری اور دیگر نشہ آور اشیاء کی تیاری، فروخت اور نقل و حمل کے خلاف سخت قانون سازی کی منظوری دی گئی ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کو مزید اختیارات دیے جائیں گے اور صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے چین میں ہونے والے عالمی فورم میں شرکت کی منظوری دی ہے تاکہ چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط بنائے جا سکیں، کابینہ نے کنری مرچ منڈی کے لیے 22 ایکڑ اراضی مختص کرنے، ایف ڈبلیو او کے ذریعے ڈملوٹی تا ڈی ایچ اے واٹر لائن منصوبہ مکمل کرانے، ڈملوٹی پائپ لائن منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری اور 400 ایکڑ پر جدید سہولیات سے آراستہ ٹرک اسٹینڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دی، جس سے شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔
سینئر وزیر نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صوبائی سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج بھی منظور کر لیا ہے۔ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کے لیے 2022 کی منجمد بنیادی تنخواہ پر 2 فیصد ڈیفرینشل الاؤنس کی منظوری دی گئی ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گریڈ ایک تا چار کا کنوینس الاؤنس 2 ہزار 678 روپے، گریڈ پانچ تا 10 کا 2 ہزار 898 روپے، گریڈ 11 تا 15 کا 4 ہزار 284 روپے جبکہ گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے ملازمین کا کنوینس الاؤنس 7 ہزار 500 روپے ماہانہ مقرر کیا گیا ہے۔ خصوصی افراد کے لیے اسپیشل کنوینس الاؤنس بھی 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ تمام نئے الاؤنسز یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔
بارشوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں حالیہ بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، تاہم اسے میڈیا پر مناسب انداز میں نہیں دکھایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دیہی علاقے زیر آب ہیں اور شہری علاقوں کی صورتحال بھی خراب ہے جبکہ سندھ میں بارشوں کے دوران صورتحال سے متعلق باقاعدہ خصوصی نشریات کی جاتی ہیں۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزراء موجود ہیں، ایسے میں انتخابی اعلانات کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
پریس کانفرنس میں شرجیل میمن نے کہا کہ جنہوں نے اپنے صوبے میں عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا، وہ آج کشمیر میں بڑے بڑے نعرے لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں ہوتی ہے تو “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگاتی ہے لیکن اقتدار میں آ کر اس پر عمل نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار حکمران جماعت کو شکست ہوئی، جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے انتخابی مہم مثالی انداز میں چلائی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو آئین، ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی دی جبکہ پارٹی قیادت نے عوامی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور قربانیاں دیں، انہوں نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے۔
انہوں نے پنجاب میں حالیہ بارشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 17 معصوم جانیں ضائع ہوئیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے بعض وزراء مری اور آزاد کشمیر میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ پر اقتدار میں آنے والے کشمیری عوام کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
پنجاب میں بارشوں نے تباہی مچادی ، مختلف حادثات میں 21 افراد جاں بحق ؛ لاہور میں اربن فلڈنگ
سینئر وزیر نے کہا کہ پنجاب کے عوام ہمارے بھائی ہیں اور سندھ حکومت گندم کی ترسیل پر پنجاب کی جانب سے سرحدی پابندیوں کی مخالف ہے۔ انہوں نے وفاق پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اضلاع میں موٹر ویز بن رہی ہیں، لیکن سندھ کے جائز موٹر وے منصوبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
شرجیل میمن نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی اتحادی نہیں، بلکہ صرف پارلیمان میں حمایت فراہم کی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سازی کے وقت پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بھی تعاون کی پیشکش کی تھی۔
