ایران نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اس کا براہِ راست ذمہ دار امریکا کو قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا لازمی حصہ ہے، تاہم امریکا اس معاہدے کی حالیہ خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ہے کیونکہ اسرائیلی اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
اسماعیل بقائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب امریکا کی پلاننگ ہے اور واشنگٹن خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل مذاکرات کا احترام نہیں کرتا اور سفارتی عمل کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جس سے امریکا کے ساتھ مستقبل کے ممکنہ سفارتی عمل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن اسرائیل سفارتی اصولوں اور معاہدوں کو پامال کر رہا ہے، تاہم کسی کو بھی معاہدے کی کسی شق کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ادارے کے سربراہ خطے کی حقیقی صورتحال کو نظر انداز کر رہے ہیں، اگر عالمی ادارہ سیاسی بیانیہ اختیار کرے گا تو اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔
بریفنگ کے دوران انہوں نے ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی کہ ایران نے سعودی عرب پر حملہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے سعودی عرب پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران اپنی ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
