ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے یو اے ای کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی، ہمارے پاس ان دعوؤں کے دستاویزی ثبوت ہیں، دکھا سکتے ہیں۔
ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ بعض فوجی کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات نے خود بھی حصہ لیا، متحدہ عرب امارات سے ہمارے خراب تعلقات کی وجہ ان کا اسرائیل سے تعلق ہے۔
ٹرمپ شرائط منوانے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں ، مشیر ایرانی سپریم لیڈر
دریں اثنا لبنانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر مکمل اختیارات کے ساتھ ایران کی قیادت کر رہے ہیں، رہبرِ انقلاب کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار ہے، سپریم لیڈر کی ہدایات فوری حکام تک پہنچتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں جنگ نہیں چاہتا، اگر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے، خلیجی ممالک پر واضح کر دیا تھا کہ حملے کی صورت میں امریکی اڈے نشانہ ہوں گے۔
دشمن میدان جنگ میں شکست کے بعد ایران میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، مجتبیٰ خامنہ ای
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمسایہ ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود نہ ہوتے تو حملے کی نوبت ہی نہ آتی، امریکا نے خلیجی ممالک کو سکیورٹی دینے کے بجائے عدم تحفظ سے دوچار کیا ، امریکی صدرراور اسرائیلی وزیراعظم کو ایران کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ 28 فروری کو حملے کے وقت میں سپریم لیڈر کے دفتر میں تھا، ہمیں اپنی جان سے زیادہ سابق سپریم لیڈر کی فکر تھی، محفوظ مقام پر منتقلی کے مشوروں کے باوجود آیت اللہ علی خامنہ ای نے جانے سے انکار کیا۔
