ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، آبنائے ہرمز کی صورت حال اور علاقائی سلامتی پر مشاورت کی گئی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا مرکزی محور خطے میں استحکام کے قیام، آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی صورتحال سے نمٹنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا تاہم ان رابطوں کے نتائج کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
Iranian Foreign Minister, Abbas Araghchi, has held a telephonic calls with his counterparts of Oman and Saudi Arabia.
Araghchi has discussed the ongoing regional situation with the counterparts pic.twitter.com/KF6xD2iDQz
— Global Insights (@GlobalInsightEn) July 28, 2026
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے خلیجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے، مجوزہ منصوبے کے تحت بحری جہاز نیوی گیشن، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو خدمات کے لیے رضاکارانہ فیس ادا کریں گے جبکہ آبی گزرگاہ کا انتظام خطے کے ممالک مشترکہ طور پر سنبھالیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی حمایت خطے کے متعدد ممالک کر رہے ہیں اور اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر یکطرفہ کنٹرول حاصل نہ کر سکے، اس ماڈل کو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے زیر انتظام آبنائے ملاکا کے انتظامی نظام سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔
عمان اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظامی ڈھانچے میں ایسی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتا جو ایران کے مطالبات کے مطابق ہو اور وہ اس آبی گزرگاہ سے متعلق بین الاقوامی بحری قوانین کی پابندی کا حامی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی پیر کو تصدیق کی تھی کہ موجودہ حالات میں ایران صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں مصروف ہے۔
ایران کو خریدا نہیں جا سکتا ، بری طرح شکست دے رہے ہیں ، ٹرمپ
ادھر سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برطانیہ، قطر اور کویت کے وزرائے خارجہ سے بھی الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان مشاورتوں میں یمن اور عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔
