عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اس منصوبے میں آبنائے ہرمز کے استعمال پر رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خلیجی ذریعے اور ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ عمان کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارت کی رکاوٹوں کو کم کرنا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے ابھی تک عمانی تجاویز کا باضابطہ جواب نہیں دیا، یہ تجاویز ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت میں آنے والی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔
Oman is reported to have sent a proposal to Iran outlining how to manage the Strait of Hormuz. A source has told Al Jazeera that Muscat has proposed a joint mechanism with Tehran to oversee the strategic waterway.
Al Jazeera’s @ResulSerdarAtas reports. pic.twitter.com/MoEwChf6St
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 28, 2026
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف جاری بمباری مہم روکنے کا اعلان کیا تھا، تاہم انہوں نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ کارروائی کا انتباہ بھی دیا۔ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے ارادے کی تردید کر چکا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت سخت کر دی تھی، جس کے باعث عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔
رائٹرز کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کے انتظام میں عمان کے ساتھ شراکت داری کا خواہاں ہے اور جہازوں سے خدمات کے بدلے فیس وصول کرنے کی تجویز دے چکا ہے تاہم امریکا اس آبی راستے کو جنگ سے پہلے کی صورتحال پر بحال کرنے کا خواہاں ہے جہاں جہاز بغیر کسی ادائیگی کے آزادانہ آمدورفت کرتے تھے۔
عباس عراقچی کے سعودی اور عمانی وزرائے خارجہ سے رابطے، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی پر مشاورت
عمانی منصوبے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا اور جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس لازمی نہیں بلکہ رضاکارانہ ہوگی، اس نظام کو ایشیا کی آبنائے ملاکا کے انتظامی ماڈل سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہازوں سے رضاکارانہ تعاون حاصل کرتے ہیں تاکہ نیوی گیشن، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
مغربی سفارت کار نے اس نظام کو پروازوں کے لیے رضاکارانہ کاربن ٹیکس سے تشبیہ دی جس میں مسافر اپنی مرضی سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اضافی رقم ادا کر سکتے ہیں۔
