لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن کا فیصلہ عوام کرتے ہیں ریاست نہیں اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کے دوران آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں کامیابی پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور کشمیری عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ایک بار پھر نواز شریف کی قیادت اور مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات میں کامیابی پر کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتی ہیں اور میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی 13 میں سے 9 نشستوں پر کامیابی عوام کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ عوام نے ترقی، خدمت اور کارکردگی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور پارٹی کشمیری عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی۔
مریم نواز نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے کھلے دل سے انتخابی شکست تسلیم کرنی چاہیے۔ انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے استعمال کی گئی زبان افسوسناک تھی، جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس عوام کو پیش کرنے کے لیے نہ کوئی مؤثر پروگرام تھا، نہ بیانیہ اور نہ ہی کارکردگی۔
انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا فیصلہ ریاست نہیں بلکہ عوام کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی کارکردگی اور بیانیے پر توجہ دینی چاہیے۔ عوام ہمدردی یا شکووں پر نہیں بلکہ کارکردگی، ایجنڈے اور ترقیاتی منصوبوں پر ووٹ دیتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں کامیابی کو تسلیم کرتی ہے تو پھر آزاد کشمیر کے نتائج پر اعتراضات کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ آزاد کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے وہاں کے حالات کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں سے حکومت کے باوجود پیپلز پارٹی عوام کو نمایاں ترقیاتی منصوبے نہیں دکھا سکی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سندھ میں امن و امان، صفائی، سڑکوں اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نورین نیازی کے خلاف مقدمہ درج، تحقیقات کا آغاز
مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھائے گی اور عوام کو پنجاب جیسی جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے عوام سے بھی آئندہ مراحل میں ترقی اور خوشحالی کے حق میں فیصلہ کرنے کی اپیل کی۔
