واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے وہی جہاز گزریں گے جنہیں ہم اجازت دیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ایسا کیا بھی جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر امریکا سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ایران نہیں بلکہ امریکا کا کنٹرول ہے، اور وہی جہاز وہاں سے گزریں گے جنہیں امریکا اجازت دے گا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر خطے کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم امریکا اس حوالے سے مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی زیادہ تر صلاحیت بھی تباہ کر دی ہے۔ لیکن ایران اب اپنی سابقہ صلاحیت کے صرف تقریباً 7 فیصد کی رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے جنگ ختم کرنے کیلئے دوبارہ مذاکرات کی درخواست نہیں کی ، اسماعیل بقائی
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اب ایران ہمارے ساتھ معاہدے کی بات کر رہا ہے، اگر ہم سخت کارروائی نہ کرتے تو مذاکرات کی نوبت ہی نہ آتی۔
