ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو کے کوماموتو صوبے میں 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں منہدم اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپانی حکومت نے زلزلے کے بعد کوماموتو، ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوؤکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی سمیت جنوبی کیوشو کے متعدد صوبوں میں ہنگامی زلزلہ الرٹ جاری کر دیا۔
جاپان کے محکمہ موسمیات نے ابتدائی طور پر ایک میٹر بلند سونامی کی وارننگ بھی جاری کی، تاہم تقریباً 2 گھنٹے بعد سمندر میں غیر معمولی سرگرمی نہ ہونے پر یہ انتباہ واپس لے لیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق زلزلہ خشکی میں آیا تھا اور اب تک سونامی کی کوئی سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی، جس کے باعث سمندری صورتحال معمول پر آنے پر تمام متعلقہ انتباہات ختم کر دیئے گئے۔
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے بتایا کہ زلزلے کے بعد متعدد افراد کے زخمی ہونے، عمارتوں کے گرنے، مختلف مقامات پر آگ لگنے، بجلی کی بندش اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ متعلقہ ادارے نقصانات کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
کیوشو الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق زلزلے کے باعث تقریباً 40 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی، جبکہ ریلوے کمپنی جے آر کیوشو نے حفاظتی اقدامات کے تحت تیز رفتار بلٹ ٹرین سمیت تمام اہم ریل سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔
زلزلے سے متاثرہ علاقے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پیداواری مراکز بھی واقع ہیں، جن میں سونی اور دنیا کی سب سے بڑی چپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی شامل ہیں۔ سونی نے اپنے کارخانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ٹی ایس ایم سی کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
جاپان کے جوہری ریگولیٹری ادارے نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں موجود جوہری بجلی گھروں میں کسی غیر معمولی صورتحال یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں: عباس عراقچی کے سعودی اور عمانی وزرائے خارجہ سے رابطے، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی پر مشاورت
واضح رہے کہ جاپان بحرالکاہل کے گرد واقع “رنگ آف فائر” میں واقع ہے، جہاں دنیا کے تقریباً 20 فیصد ایسے زلزلے آتے ہیں جن کی شدت 6.0 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ تقریباً 10 سال قبل بھی کوماموتو میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں 275 افراد ہلاک اور 2 ہزار 739 زخمی ہوئے تھے۔
