دنیا کے سب سے بڑے تیرتے ہوئے شہر کی تعمیر کا منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
’’فریڈم شپ‘‘ نامی یہ مجوزہ منصوبہ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا بلکہ اسے ایک مکمل شہر کی حیثیت بھی حاصل ہوگی جہاں بیک وقت 80 ہزار افراد رہ سکیں گے۔
منصوبے کے مطابق فریڈم شپ کی لمبائی تقریباً ایک میل، چوڑائی 800 فٹ اور اونچائی 30 منزلہ عمارت کے برابر ہوگی اس دیوہیکل بحری شہر کی تعمیر پر تقریباً 12 ارب پاؤنڈ لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

جہاز میں 50 ہزار مستقل رہائشیوں کے لیے گھر موجود ہوں گے جبکہ 10 ہزار سیاحوں اور روزانہ آنے والے مہمانوں کے لیے بھی جگہ مختص ہوگی۔ اس کے علاوہ 20 ہزار افراد پر مشتمل عملہ اس شہر نما جہاز کے انتظامات سنبھالے گا۔

فریڈم شپ میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ تحقیقی اسپتال، اسکول، کالج، شاپنگ مالز، ریستوران، بینک، تجارتی مراکز اور مالیاتی ادارے قائم کیے جائیں گے۔ منصوبے میں ایک 15 ہزار نشستوں والا اسپورٹس اسٹیڈیم، واٹر پارک، دو عجائب گھر، سمفنی ہال، کانفرنس سینٹر اور متعدد بلند و بالا ہوٹل بھی شامل ہیں۔

ایمریٹس ایئرلائن کے پائلٹ کتنی تنخواہ لیتے ہیں؟ جان کر حیران رہ جائیں گے
رہائشیوں اور سیاحوں کی تفریح کے لیے ایک وسیع ایکویریم، جدید نائٹ کلب، دو منزلہ فوڈ ہال اور سرسبز پارکس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ جہاز کے اندر مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے ٹرام سسٹم متعارف کرایا جائے گا جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے 15 میل طویل واک ویز اور تین ایکڑ پر مشتمل سبزہ زار بنائے جائیں گے۔

منصوبہ سازوں کے مطابق فریڈم شپ کسی بندرگاہ پر مستقل طور پر نہیں رکے گا بلکہ بین الاقوامی سمندری حدود میں رہے گا اور تقریباً ہر دو سال بعد پوری دنیا کا چکر مکمل کرے گا۔ چونکہ اس کا حجم موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہوگا، اس لیے مسافروں کو ساحل تک پہنچانے کے لیے خصوصی فیری سروس استعمال کی جائے گی۔
فریڈم شپ کا تصور پہلی مرتبہ 1990 کی دہائی میں امریکی انجینئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اب فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو راجر گوچ نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کا اعلان کیا ہے اس منصوبے میں دلچسپی اتنی زیادہ ہے کہ بیک وقت تین ایسے جہاز بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
منصوبے کے مطابق جہاز کی تعمیر انڈونیشیا میں کی جائے گی اور اسے مختلف حصوں میں تیار کرکے سمندر میں جوڑا جائے گا۔ تعمیر مکمل ہونے میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں، تاہم انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ لوگ تعمیر کے دوران ہی اس پر رہائش اختیار کرنا شروع کر سکیں گے۔
فریڈم شپ کو ماحول دوست منصوبہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق اسے ممکنہ طور پر جوہری توانائی سے چلایا جائے گا جس سے کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی۔ ساتھ ہی سمندروں کی صفائی اور ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو فریڈم شپ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا بلکہ انسانی تاریخ کا پہلا مستقل تیرتا ہوا شہر بھی بن جائے گا جو رہائش، کاروبار، تعلیم اور تفریح کا ایک منفرد عالمی مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔
