اسکاٹ لینڈ کی بلند ترین چوٹی’’بین نیوس‘‘ پر ہائیکنگ کے دوران ایک لیبراڈور کتے کی اچانک طبیعت بگڑنے پر ریسکیو ٹیم کو طلب کرنا پڑا، بعد ازاں ویٹرنری معائنے میں معلوم ہوا کہ کتے نے ممکنہ طور پر بھنگ (کینابس) ملا کھانا کھا لیا تھا، جس کے باعث اس کی حالت غیر ہو گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پانچ سالہ سیاہ رنگ کے لیبراڈور ’’ٹوکیو‘‘ کی مالکن کرسٹینا بلوہمے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بین نیوس کی چوٹی کی جانب ہائیکنگ کر رہی تھیں کہ راستے میں انہوں نے محسوس کیا کہ کتا اچانک کمزور ہونے لگا۔
View this post on Instagram
کرسٹینا کے مطابق ابتدا میں انہیں شبہ ہوا کہ شاید دشوار گزار راستے پر چڑھائی کے باعث ٹوکیو کی ریڑھ کی ہڈی یا کمر میں کوئی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، تاہم کچھ ہی دیر بعد وہ بار بار بے ہوشی کی کیفیت میں جانے لگا، جس پر انہیں شدید تشویش لاحق ہوگئی۔
امریکا میں ہرن نوادرات کی دکان میں گھس آیا، ہر طرف تباہی مچا دی
انہوں نے بتایا کہ اس وقت انہیں محسوس ہوا جیسے وہ اپنے پالتو ساتھی کو کھونے والی ہیں۔ مسلسل بارش اور پھسلن کی وجہ سے تقریباً 53 پاؤنڈ وزنی لیبراڈور کو خود نیچے لانا ممکن نہ تھا، چنانچہ اہل خانہ نے ’’لوکھیبر ماؤنٹین ریسکیو ٹیم‘‘ سے مدد طلب کی۔
خوش قسمتی سے ریسکیو ٹیم کے رضاکار قریب ہی ایک دوسرے ہنگامی آپریشن کے سلسلے میں موجود تھے، جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹوکیو کو اسٹریچر پر محفوظ طریقے سے پہاڑ سے نیچے منتقل کیا۔
بعد ازاں کتے کو فورٹ ولیم کے’’کراؤن ویٹس‘‘کلینک لے جایا گیا، جہاں ویٹرنری ماہرین نے خون کے ٹیسٹ اور دیگر معائنے کیے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ٹوکیو میں وہ تمام علامات موجود تھیں جو کینابس استعمال کرنے والے جانوروں میں دیکھی جاتی ہیں۔
فضا میں طیارے کی کھڑکی اکھڑ گئی،مسافر آدھا جہاز سے باہر لٹک گیا، پھر کیا ہوا؟
مالکن نے بتایا کہ جب ویٹرنری ڈاکٹر نے ٹوکیو کا درجہ حرارت چیک کیا تو اس دوران خارج ہونے والی گیس سے واضح طور پر بھنگ جیسی بو آرہی تھی، جس سے ڈاکٹروں کا شبہ مزید مضبوط ہوگیا۔
ویٹرنری ماہرین کا کہنا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ ٹوکیو نے ہائیکنگ ٹریل پر کسی شخص کی پھینکی ہوئی کینابس ملی خوراک یا کسی ایسے شخص کا فضلہ کھایا ہو جس نے بھنگ استعمال کی تھی۔
ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کے بعد ٹوکیو کی حالت تیزی سے بہتر ہوئی اور اگلے ہی روز اسے ڈسچارج کردیا گیا۔ مالکن کے مطابق واپسی کے وقت ٹوکیو نہایت خوش دکھائی دے رہا تھا، دم ہلا رہا تھا اور اگلے دن تو ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا تھا۔
