دبئی، مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے پرکشش اور زیادہ معاوضہ دینے والی ایئرلائنز میں اپنی جگہ برقرار رکھی ہے۔
تازہ اعدادوشمار کے مطابق ایمریٹس کے پائلٹس کو نہ صرف بھاری تنخواہیں دی جا رہی ہیں بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی حاصل ہیں، جس کے باعث دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایمریٹس کے فرسٹ آفیسرز سالانہ 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم تک کماتے ہیں، جو امریکی ڈالر میں تقریباً ایک لاکھ 14 ہزار سے ایک لاکھ 69 ہزار ڈالر بنتے ہیں۔

نئے شامل ہونے والے پائلٹس تنخواہ کے ابتدائی درجے سے آغاز کرتے ہیں جبکہ بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر خدمات انجام دینے والے تجربہ کار فرسٹ آفیسرز زیادہ معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایمریٹس کے کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شمار ہوتے ہیں۔ 2026 میں ایک کپتان کی سالانہ آمدن 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک ہو سکتی ہے، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
ملک کے 22 شہروں میں فائیو جی سروسز کا آغاز مگر صارفین اب بھی پریشان
ایئربس A380 جیسے الٹرا لانگ ہال طیاروں کے کپتان اضافی الاؤنسز اور ڈیوٹی پے کے باعث اس سے بھی زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
ایمریٹس کی جانب سے پائلٹس کو دی جانے والی سہولیات میں ٹیکس فری تنخواہ سب سے نمایاں ہے، جس کے باعث ان کی خالص آمدن کئی مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کمپنی کی جانب سے دبئی میں رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، طبی اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں معاونت، بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل اور کھانے کے اخراجات سمیت متعدد دیگر مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
ایمریٹس اس وقت دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی فضائی بیڑوں میں سے ایک چلا رہی ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 طیارے شامل ہیں۔

کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 نئے طیاروں کے آرڈر بھی دے رکھے ہیں، جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔
ایمریٹس میں پائلٹ بننے کے لیے سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار گھنٹے پرواز کا تجربہ جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار گھنٹے سے زائد فلائنگ تجربہ اور ہزاروں گھنٹے کمانڈ ٹائم درکار ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مطلوبہ مہارت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
