اگر باورچی خانے میں چینی کے چند دانے گر جائیں، کھیر کا ایک قطرہ فرش پر ٹپک جائے یا مٹھائی کا چھوٹا سا ٹکڑا میز کے نیچے رہ جائے تو کچھ ہی دیر بعد وہاں چیونٹیوں کی قطار لگ جانا ایک عام منظر ہے۔
بظاہریہ ایک معمولی واقعہ محسوس ہوتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کے پیچھے فطرت کا نہایت منظم، حیرت انگیز اور مؤثر حیاتیاتی نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چیونٹیوں کی کامیابی کا راز ان کی غیرمعمولی سونگھنے کی صلاحیت اور اینٹینا (سینگ نما اعضا) میں پوشیدہ ہے۔
یہی اینٹینا انہیں ایسے کیمیائی سگنلزمحسوس کرنے کے قابل بناتے ہیں جنہیں انسان نہ دیکھ سکتے ہیں اورنہ ہی سونگھ سکتے ہیں، اسی وجہ سے چیونٹیاں انتہائی معمولی مقدارمیں گری ہوئی میٹھی خوراک کا بھی سراغ لگا لیتی ہیں۔
بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ہرچیونٹی کالونی میں مزدورچیونٹیوں کا ایک گروہ مسلسل خوراک کی تلاش میں مصروف رہتا ہے۔
یہ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، فرش کے کناروں، دروازوں کی دہلیز اورباورچی خانے کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہتی ہیں، جیسے ہی انہیں چینی، شربت، مٹھائی یا کسی بھی میٹھی چیزکا ذرہ ملتا ہے وہ فوری طور پراس کی شناخت کرلیتی ہیں۔
67 ملین سال پرانا ٹی ریکس ’گس‘ نیلامی کیلئے تیار، قیمت 3 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان
2021 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کے اینٹینا اوراگلی ٹانگوں پر موجود خصوصی ذائقہ محسوس کرنے والے ریسیپٹرزانہیں صرف چھونے سے بھی یہ جاننے کی صلاحیت دیتے ہیں کہ سامنے موجود چیز میٹھی ہے یا نہیں، یہی خصوصیت انہیں خوراک کی فوری شناخت میں مدد دیتی ہے۔
خوراک ملنے کے بعد اصل حیرت انگیز مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ چیونٹی اکیلے واپس نہیں جاتی بلکہ راستے میں فیرومونز نامی ایک خاص کیمیائی مادہ چھوڑتی جاتی ہے۔
یہ فیرومونز دوسری چیونٹیوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں، جو اسی خوشبو والے راستے پر چلتے ہوئے براہِ راست خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔
امریکی محکمہ زراعت کی زرعی تحقیقاتی سروس کے مطابق فیرومونز ایک قدرتی نیوی گیشن سسٹم کی حیثیت رکھتے ہیں بعض ماہرین نے اس نظام کو جدید گوگل میپس سے تشبیہ دی ہے کیونکہ یہ پوری کالونی کو درست راستہ دکھانے اور خوراک تک پہنچانے میں انتہائی مؤثر کردارادا کرتا ہے۔
1993 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ کیمیائی راستے تقریباً 47 منٹ تک مؤثررہتے ہیں، جو دوسری مزدور چیونٹیوں کے جمع ہونے اور خوراک کو کالونی تک منتقل کرنے کے لیے کافی وقت فراہم کرتے ہیں۔
ماہرینِ حشرات کے مطابق چیونٹیوں کے اینٹینا صرف سونگھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ وہ رابطے، سمت کے تعین، خطرات کی نشاندہی اور اپنی کالونی کے افراد کی شناخت میں بھی بنیادی کردارادا کرتے ہیں۔
اگراینٹینا متاثر ہوجائیں تو چیونٹیوں کے لیے نہ صرف خوراک تلاش کرنا بلکہ اپنی کالونی تک واپس پہنچنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چیونٹیوں کا یہ اجتماعی اور کیمیائی مواصلاتی نظام فطرت کے مؤثر ترین حیاتیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔
یہی منظم تعاون، بہترین رابطہ اور غیرمعمولی حسِ شامہ انہیں چند لمحوں میں معمولی سے معمولی میٹھی خوراک تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے، جو قدرت کے حیرت انگیز شاہکاروں میں سے ایک ہے۔
