امریکا نے دہشتگردی سے متعلق ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہیں چاہتے پاکستان دہشتگرد حملوں کا نشانہ بنے۔
افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر مسلسل سرحد پار حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان ان حملوں کے جواب میں سکیورٹی اور دفاعی اقدامات کے ساتھ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔
ترک میڈیا ٹی آر ٹی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے علاقے سے ہونے والے دہشتگرد حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہے، پاکستان نے دہشتگردوں کیخلاف جوابی کارروائی کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی تشویشناک ہے ، امریکا اس کو روکنے کے لیے کوئی مثبت کردار ادا کر سکا تو کرے گا تاہم ہمارے طالبان سے اتنے اچھے تعلقات نہیں ہیں۔
ایران پر دوبارہ حملے کے حوالے سے مارکو روبیو نے کہا کہ اگر امریکا چاہے تو اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باوجود ایران پر نئے حملوں سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو کھلے عام اور فعال طور پر نشانہ بنانے پر تنقید کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں تاہم انہوں نے مذاکرات کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔
روبیو نے کہا کہ اگر سفارتی حل ممکن ہوا تو امریکا اس کے لیے تیار ہے، تاہم وہ مذاکرات میں پیشرفت یا ان کے لیے کسی ممکنہ مدت کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کو مکمل طور پر ختم کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر نے امریکا اور اسرائیل کو نئے حملوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ کے خاتمے کا وقت ہم طے کریں گے۔
دوسری جانب ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے سے واشنگٹن کے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ جمعرات کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین سفارتی حل پر زور دے رہی ہے کیونکہ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔



