امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو خط بھیجنے کی ہدایت دینے کی تردید کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ جے ڈی وینس کا ایران سے رابطہ امن مذاکرات کے بجائے طبی سامان کی فراہمی سے متعلق تھا، کیونکہ ایران کو بیمار افراد کی مدد کے لیے طبی سامان درکار ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ جے ڈی وینس نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کو خط بھیجا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ خط صدر ٹرمپ کی ہدایت پر بھیجا گیا، تاہم ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جے ڈی وینس نے ان سے رابطے کے بارے میں رائے لی تھی اور انہوں نے طبی سامان کی فراہمی کی اجازت دی تھی۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران کو جے ڈی وینس کا خط موصول ہوگیا ہے، تاہم ایران نے تاحال اس کا جواب نہیں دیا۔
ایران پر پابندیاں اور جنگ بندی کی کوششیں
امریکا اور اسرائیل نے فروری کے اختتام پر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اس کے بعد امریکا نے ایران کی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی بھی نافذ کردی۔ ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کو شہریوں کی طبی سامان تک رسائی میں رکاوٹ قرار دیتا رہا ہے۔
ایران نے اگست میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا تھا کہ امریکی اقدامات شہریوں کو خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم کر رہے ہیں۔
قطر کے ثالثوں نے اتوار کو جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نئے مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اسے ناقابل قبول تجاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ باقاعدہ پیشکش کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔
جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکا میں بھی سیاسی اثرات مرتب کیے ہیں۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن اور توانائی کے اخراجات میں اضافے کو ری پبلکن امیدواروں کی حمایت اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت کے لیے ایک چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔



