امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت لا کر کوئی بڑا اقدام کر سکتے ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور وہاں آزادانہ بحری آمدورفت کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سفارتی کوششوں کی کامیابی کو نہ صرف جنگ کے خاتمے بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی توانائی کی تجارت کے تسلسل کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اگر انتخابی نتائج کے باعث صدر ٹرمپ خود کو سیاسی طور پر کمزور محسوس کرتے ہیں تو وہ ایران کے خلاف کوئی بڑا اور غیر معمولی اقدام کر سکتے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق ایرانی حکام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس وقت ان کے پاس بہترین موقع ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور امریکی پالیسی کے تعین میں انتخابات کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہو گی۔
Trump could be more inclined to launch a major military operation against Iran if Republicans suffer heavy losses in the U.S. midterms, Axios reports, citing a U.S. official.
The official said Trump might take bold action if he feels embarrassed by the results, warning that Iran’s best chance for a deal is before the elections.
Source: Axios
— Clash Report (@clashreport) October 31, 2026
رپورٹ کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں 12 گھنٹے سے زائد مذاکرات کیے اور اس دوران وائٹ ہاؤس سے بھی مسلسل رابطے میں رہے۔ ان کوششوں کا مقصد امریکا اور ایران کو دوبارہ براہ راست مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
ایک سفارتی ذریعے نے ان بات چیت کو ”مثبت پیش رفت“ قرار دیا، جبکہ مزید ملاقاتیں ہفتے کو دوحہ میں طے پائی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کو اب بھی مختلف شرائط پر اختلافات کا سامنا ہے۔ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے اور اسے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے۔
ایگزیوس کے مطابق قطر ایران پر زور دے رہا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دے، جس کے بدلے ایران کو محدود پیمانے پر پابندیوں میں ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر مختلف آرا کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے امکانات پر شکوک و شبہات ہیں اور وہ ایرانی قیادت کو مزید کمزور کرنے کے حق میں ہیں۔ جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کی بحالی اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔
خیال رہے جون میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 14 نکاتی عبوری معاہدہ طے پایا تھا، جس پر صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے تھے۔ تاہم چند ہی ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ فوجی تناؤ بڑھنے کے باعث یہ معاہدہ عملاً ختم ہو گیا۔



