امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی بلکہ ایران 1979ء سے امریکا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ جب میں چاہوں گا، ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو جائے گی۔
امریکی میڈیا سی این بی سی کے مطابق ریاست ٹیکساس کے شہر لباک میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ بہت جلد ہو سکتا ہے، لیکن اسے مناسب طریقے سے ختم کرنا ضروری ہے، جس میں ایران کی جانب سے اس بات کی مکمل یقین دہانی شامل ہو کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث انہیں عوامی حمایت میں کمی کا سامنا ہے۔
رائٹرز اور اِپسوس کے 26 اکتوبر کو جاری ہونے والے سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم ہو کر 32 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی صدارت کے دوران ریکارڈ کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن معاملے کو طول بھی دینا چاہتا ہے۔ شاید وہ انتخابات کا انتظار کر رہے ہیں یا کچھ اور، لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘
.@POTUS on Iran: “It’s a question of when do I want to end it… They’ve wanted to make a deal, but they like tapping it along. Maybe they’re waiting for the election or something — but that’s not gonna help them.” https://t.co/C76mduPuwf
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) October 28, 2026
انہوں نے کہا کہ سابق امریکی رہنماؤں کو کئی دہائیاں قبل ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی لیکن ان میں ایسا کرنے کی ہمت یا دانشمندی نہیں تھی۔ ہم نےایرانی طیارے مار گرائے ، اب وہ ٹکڑوں کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں۔ ایران کے پاس اب نہ بحریہ ہے اور نہ فضائیہ، ان کے بحری جہاز ڈبو دیئے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہو رہا ہے اور اشارہ دیا کہ اس آبی گزرگاہ کا نام جلد تبدیل کر کے آبنائے ٹرمپ رکھا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا امریکا کی 51 ویں انتہائی خوشحال ریاست بن سکتا ہے ، امریکا کو وینزویلا سے ایک ارب بیرل تیل ملنے والا ہے، وینزویلا سے ملنے والے تیل پر امریکیوں کو کوئی خرچ نہیں کرنا پڑتا۔



