امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے غیر حتمی اور ابتدائی نتائج میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی توقعات سے بہتر کارکردگی کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حمایت نے نیتن یاہو کو متوقع شکست سے نکال کر مقابلے کی مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے اور مرکزی الیکشن کمیٹی کے ابتدائی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیتن یاہو کا دائیں بازو کا مذہبی اتحاد ایگزٹ پولز کی پیشگوئیوں سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔
آج صبح تک 41 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نیتن یاہو کی جماعت ’لیکود‘ 28 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، جبکہ سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزنکوت کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد ‘یشار ‘کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
اس حساب سے نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کا اتحاد 57 نشستوں کے ساتھ جبکہ مخالف ’پرو چینج‘ اتحاد 47 اور عرب جماعتوں پر مشتمل گروپ 16 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔
“When President Trump endorsed Bibi Netanyahu, the whole tide turned, and now, rather than a decisive defeat for a Great Prime Minister, it looks like a big come-from-behind stalemate, or even a WIN for Netanyahu. It all took place AFTER the Endorsement by President Trump, who only wants what is good for the Middle East, Israel, and the United States of America!”
( TS: Oct 28 2026, 12:33 AM ET )
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) October 28, 2026
اسرائیلی پارلیمنٹ جسے ’کنیست‘ کہا جاتا ہے، کی کل 120 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے 61 اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو کا بلاک اپنے مخالفین سے آگے ہے، تاہم نمبر گیم میں وہ اب بھی 4 نشستیں پیچھے ہے۔
گنتی مکمل ہونے تک صورتحال مزید تبدیل ہو سکتی ہے لیکن فی الوقت دونوں میں سے کسی بھی بلاک کے لیے واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانا انتہائی پیچیدہ مرحلہ نظر آ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ”نیتن یاہو نے توقعات سے کہیں زیادہ شاندار کارکردگی دکھائی ہے، وہ جیت رہے ہیں یا مقابلہ برابر ہے۔ اس سے پہلے سروے ان کی شکست کی پیشگوئی کر رہے تھے لیکن میری تائید و حمایت نے الیکشن کا تمام رخ موڑ دیا۔“
پوسٹ میں ٹرمپ نے اس دعوے کو ارونگ نامی کسی اور شخص سے منسوب کیا اور ان الفاظ کو واوین میں لکھا۔
ٹرمپ کی اس کھلی حمایت نے اسرائیل کے دائیں بازو کے ووٹرز کو متحرک کرنے میں اہم کردار ضرور ادا کیا ہو گا، تاہم اس کا واضح اثر حتمی نتائج کے بعد ہی دیکھا جا سکے گا۔



